وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین و کرپٹو بلال بن ثاقب نے استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال بن ثاقب نے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم وہ پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بدستور ادا کرتے رہیں گے۔
کیبنٹ ڈویژن کے 13 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بلال بن ثاقب کا استعفیٰ قبول کرلیاہے، وہ 26 مئی کو وزیرِ مملکت کے مساوی حیثیت کے ساتھ اس عہدے پر تعینات ہوئے تھے۔
ابوزر حادثے سے قبل سنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا ، تفتیش میں انکشاف
بلال بن ثاقب کو یکم اگست کو پرو بونو بنیاد پر تین سالہ مدت کے لیے PVARA کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ ایک خودمختار وفاقی اتھارٹی ہے، جس کی سربراہی اسٹیٹ بینک کے گورنر، ایس ای سی پی کے چیئرمین اور ایف بی آر کے چیئرمین پر مشتمل ملٹی اسٹیک ہولڈر بورڈ کرتا ہے۔
PVARA کا بنیادی مقصد غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام، صارفین کا تحفظ، فِن ٹیک، ترسیلات اور ٹوکنائزڈ اثاثوں میں مواقع پیدا کرنا ہے، جبکہ ریگولیٹری سینڈ باکسز کے ذریعے شریعت کے مطابق ڈیجیٹل فنانس کو فروغ دینا بھی اس کا حصہ ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں متحدہ عرب امارات کا 54 واں "عید الاتحاد " منایا گیا
ذرائع کا کہناہے کہ Rules of Business 1973 کے مطابق کوئی شخص SAPM نہیں ہو سکتا اگر وہ کسی قانونی ریگولیٹری اتھارٹی، جیسے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کا چیئرمین ہو، بلال بن ثاقب اس اتھارٹی کے موجودہ چیئرمین بھی ہیں، جس وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بلال بن ثاقب
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔