چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش محمد یونس کی اسپتال جاکر خالدہ ضیا کی عیادت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کی نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ڈھاکا کے ایورکیئر اسپتال جاکر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کی عیادت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سیاسی تشدد میں خطرناک اضافہ
پروفیسر یونس شام 7 بجے کے قریب اسپتال پہنچے جہاں بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر، خالدہ ضیا کی میڈیکل ٹیم بشمول پروفیسر ڈاکٹر اے جے ایم زاہد حسین اور پروفیسر ڈاکٹر شہاب الدین تلکدار کے علاوہ خالدہ ضیا کی بہو سیدہ شرمیلا رحمان اور چھوٹے بھائی شمیم اسکندر نے پروفیسر یونس کا استقبال کیا۔
چیف ایڈوائزر تقریباً نصف گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے۔ اس موقع پر انہوں نے خالدہ ضیا کے اہلخانہ اور پارٹی رہنماؤں سے صبر اور ہمت سے حالات کا سامنا کرنے کی اپیل کی۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے امیر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی خالدہ ضیا کی عیادت
خالدہ ضیا کی معالج ٹیم نے انہیں ان کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ امریکا کے ماؤنٹ سینائی اور جانز ہاپکنز کے ماہرین اور برطانیہ، چین اور دیگر ممالک کے اسپیشلسٹس خالدہ ضیا کے علاج کے نگرانی کر رہے ہیں۔
پروفیسر یونس نے حکومت کی جانب سے بیگم خالدہ ضیا کے علاج میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے عوام سے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان شدید علیل والدہ سے کب ملیں گے؟
دورے کے دوران نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر خلیل الرحمان بھی چیف ایڈوائزر کے ہمراہ موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش خالدہ ضیا محمد یونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش خالدہ ضیا محمد یونس چیف ایڈوائزر خالدہ ضیا کی خالدہ ضیا کے بنگلہ دیش
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔