Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:02:58 GMT

آئی ایم ایف نے پاکستان کیلیے 1.3 ارب ڈالر کی منظوری دے دی

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

آئی ایم ایف نے پاکستان کیلیے 1.3 ارب ڈالر کی منظوری دے دی

اسلام آباد(نیوزڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلیے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس واشنگٹن ہوا جس میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی گئی۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (آی ایف ایف) پروگرام کے تحت قرض کی تیسری قسط کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم ملے گی۔

ذرائع کے مطابق 1.

3 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی پہلی قسط بھی ملے گی، نئی قسط کے بعد دونوں قرض پروگرامز کے تحت پاکستان کو موصول ہونے والی مجموعی رقم 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کی دو اقساط پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں۔

اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے دوسرے اقتصادی جائزے کی بھی منظوری دے دی اور آئی ایم ایف نےجاری قرض پروگرام پرعملدرآمد کو مضبوط قراردیدیا ہے جبکہ حکومت نے معاشی اصلاحات پرعمل درآمد جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

پاکستان کیلئے ای ایف ایف موجودہ قرض پروگرام کی تیسری قسط منظور ہوئی، اس سے قبل پاکستان نے 37 ماہ کا موجودہ قرض پروگرام ستمبر 2024 میں حاصل کیا تھا۔

ای ایف ایف پروگرام کی ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط ستمبر 2024 میں ملی جبکہ دوسری ایک ارب ڈالر کی قسط مئی 2025 میں ملی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف قرض پروگرام ارب ڈالر کی کی منظوری ایف ایف

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ