نئی قسط کی منظوری، IMF انتظامی بورڈ کا اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پاکستان کو ایک ارب بیس کروڑ ڈالر امداد کی نئی قسط کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف انتظامی بورڈ کا اجلاس آج ہوگا۔
پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے تحت ایک ارب ڈالر اور قدرتی آفات سے بچنے کی صلاحیت اور پائیدار ترقی کے لیے بیس کروڑ ڈالر کی رقم دینے پر اجلاس میں غور ہوگا۔
آئی ایم ایف کی شرط تھی کہ بورڈ اجلاس سے پہلے پاکستان کرپشن اور گورننس کے تجزیے سے متعلق آئی ایم ایف رپورٹ جاری کرے، جس کے بعد پاکستان یہ رپورٹ جاری کر چکا ہے۔
آئی ایم ایف اسٹاف مشن پاکستان کی معاشی پیش رفت پر اطمینان ظاہر کر چکا ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی کو سراہا ہے اور سفارش کی ہے کہ یہ سخت مالیاتی پالیسی آگے بھی جاری رکھی جائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔