ایک سال میں شام پر اسرائیل کے 600 سے زائد حملے: ایکلڈ عالمی تنظیم رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
آرمڈ کنفلیکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ACLED) کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال کے دوران، اسرائیل نے شام میں 600 سے زیادہ فضائی، ڈرون یا توپ خانے کے حملے کیے ہیں جو کہ ایک دن میں تقریباً دو حملے ہیں۔
بشارالاسد خاندان کے 54 سالہ دور حکومت کے خاتمہ کے بعد دمشق پر اتحادی گروہوں کے اقتدار میں آنے کا پہلا سال مکمل ہو گیا۔
بشار حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام میں اپنی فوجی مہم کو نمایاں طور پر بڑھا کر عدم استحکام کو پروان چڑھایا اور اپنے پڑوسی ملک کے زیادہ تر فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جس میں بڑے ہوائی اڈے، فضائی دفاعی نظام، لڑاکا طیارے اور دیگر اسٹریٹجک تنصیبات شامل ہیں۔
اسرائیلی حملوں کا زیادہ تر حصہ جنوبی شام کی گورنری قنیطرہ، درعا اور دمشق پر مرکوز رہا جو تمام ریکارڈ شدہ اسرائیلی حملوں کا تقریباً 80 فیصد ہے۔
العنان حکمران بشار الاسد کے طویل اقتدار کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں جشن منایا گیا۔ دارالحکومت دمشق سمیت دیگر شہروں میں عوام نے فتحی اور آزادی کے دن کو جوش اور جذبے کے ساتھ منایا۔
اس موقع پر کئی شہروں میں آتشبازی کی گئی اور فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں چھاتہ بردار دستوں نے فضا میں کرتب دکھائے۔ درعیہ شہرمیں دنیا کا سب سے بڑا روایتی پکوان منسف تیار کیا گیا۔
صدراحمد الشرح نے دمشق کی تاریخی اموی مسجد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے تحفے میں دیے گئے غلاف کعبہ کے ٹکڑے کی رونمائی بھی کی۔
شامی صدر نے 2029 میں عام انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عبوری دور مزید چار سال جاری رہے گا۔ اس دوران ریاستی اداروں کی تشکیل نو، نئےقوانین کی تیاری اور آئین کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔ آئین مکمل ہونے پر اسے عوام کے سامنے ریفرنڈم کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔