حکومت کا میڈیا کو اڈیالہ جیل لے جانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سینیٹر رانا ثنا اللہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، جو میڈیا کو اڈیالہ جیل لے جائے گی تاکہ دکھایا جا سکے کہ عمران خان کس طرح وہاں رہ رہے ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے عمران خان کے عدالتی قتل‘ سے متعلق بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ انہیں حفظِ ایمان میں رکھے، انہیں زندہ سلامت رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی، اداروں کے خلاف بیانات اور مبینہ بلیک میلنگ کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حرکات ایسی ہیں کہ انہیں مچھ جیل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ سے جو بیان جاری کیا، اس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اداروں کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کیا گیا۔ اگر وہ اداروں کو الطاف حسین کی طرح دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہیں ایسے کسی این آر او کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔