تھری سٹار جنرل کے کورٹ مارشل اور سزا سے آئندہ فوجی اور سول افسران محتاط ہونگے، نیئر بخاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
تھری سٹار جنرل کے کورٹ مارشل اور سزا سے آئندہ فوجی اور سول افسران محتاط ہونگے، نیئر بخاری WhatsAppFacebookTwitter 0 12 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ 3سٹار جنرل کے کورٹ مارشل اور سزا سے آئندہ فوجی اور سول افسران محتاط ہونگے۔
اپنے بیان میں نیئر بخاری نے کہا کہ ماضی میں عام شہریوں کے بھی ملٹری ٹرائل ہوئے ہیں، ملکی مفاد کے خلاف اقدامات، سازش اور اداروں میں تقسیم پر سویلین کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری سیاسی قیادت کسی پارٹی پر پابندی کی حمایت نہیں کرسکتی لیکن آئین کی خلاف ورزی پر پابندی لگ سکتی ہے، پیپلز پارٹی ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے، بدترین حالات میں نصرت بھٹو اور شہید بینظیر نے جمہوریت کی خاطر مخالفین کو بھی یکجا کیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ عارضی ریلیف ڈائیلاگ کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی ایسے ڈائیلاگ ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی والے یوٹرن کے ذریعے بداعتمادی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرانسپورٹرز اور پنجاب حکومت میں مذاکرات کامیاب، ہڑتال ختم کرنے کا اعلان ٹرانسپورٹرز اور پنجاب حکومت میں مذاکرات کامیاب، ہڑتال ختم کرنے کا اعلان وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق پی آئی اے اور کینیڈین ہائی کمیشن کا سرمایہ کاری و ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پارٹی کے اندر لڑائی برداشت نہیں کی جائے گی، اگر کوئی ملوث ہے تو اس کو باہر رکھا جائے،نواز شریف پی ٹی آئی کے ساتھ اب کوئی فیض حمید نہیں، منفی سیاست چھوڑ دے، طارق فضل چوہدری اسلام آباد میں بلدیات کے متبادل نظام لانے کی تیاریاں، وفاقی کونسل کی تشکیل زیر غورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کورٹ مارشل
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔