وائی فائی راٹرز سے حساس معلومات کی چوری کا خدشہ، کابینہ ڈویژن نے محکموں کو مراسلہ لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
وائی فائی راٹرز سے حساس معلومات کی چوری کا خدشہ، کابینہ ڈویژن نے محکموں کو مراسلہ لکھ دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وائی فائی اور وائرلیس نیٹ ورکس کے ذریعے حساس معلومات چوری ہونے کے خدشے پر وائرلیس راٹرز کو کم سے کم محفوظ ڈیوائسز قراد دے دیا گیا۔ کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور صوبائی حکومتوں کو مراسلہ لکھ دیا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وائی فائی کے ذریعے نیٹ ورک ٹریفک میں باآسانی مداخلت ہوسکتی ہے، راٹرز اپڈیٹس کے ذریعے انٹرنیٹ ٹریفک کو غیر محفوظ طرف موڑا جاسکتا ہے۔ مراسلے کے مطابق وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے ڈائریکٹریز اور فائلز کو باآسانی شیئر کیا جاسکتا ہے۔
مراسلے میں صارفین کو وائی فائی کے پاسورڈ پیچیدہ رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے وائی فائی کا نام اور آئی ڈی خفیہ رکھنے کی تجویزبھی دی گئی ہے۔ مراسلے میں اہم معلومات بچانے کے لیے گیسٹ نیٹ ورک بند کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔