میڈیکل پروفیسرز کی موبائل ایپ پر حاضری خطرہ بن گئی ، ڈیٹا غیر محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
زاہد چوہدری : سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے پروفیسرز کی موبائل ایپ پر حاضری خطرے کی گھنٹی بج گئی
پروفیسرز کی موبائل پر تمام ڈیٹا تک بھی رسائی ہوگی،پروفیسرز کی نقل و حرکت بھی موبائل ایپ سے مانیٹر ہوسکے گی،موبائل حاضری ایپ کی فون گیلری ، کنٹیکٹ نمبر، کیمرہ ، ایس ایم ایس تک رسائی ہوگی،انٹرنیٹ ، سینسرز ، مائیکروفون ، سٹوریج تک رسائی ہوسکے گی،موبائل ایپ ای ایس ایس پر حاضری لگانے والے پروفیسرز کا ڈیٹا غیر محفوظ ہونے کا خدشہ سامنے آگیا۔
پروفیسرز کے موبائل فون میں موجود تصاویر سمیت ذاتی معلومات تک ایپ کے ذریعے رسائی ہوگی، جبکہ پی آئی ٹی بی نے یقین دہانی کروانے کی کوشش کی کہ پروفیسرز کی ذاتی معلومات کسی سے شیئر نہیں ہونگی لیکن
ذاتی ڈیٹا تک موبائل ایپ کے ذریعے رسائی پروفیسرز کیلئے پریشانی کاسبب بن گئی
مسائل کے حل کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ رابطہ رکھنا ضروری ہے:گورنر سٹیٹ بینک
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔