فیصل آباد ،پریم یونین کا نجکاری کیخلاف تحریک چلانے کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی )ریلوے پریم یونین نے حکومت کی طرف سے ریلوے کی نجکاری کے متوقع فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف ” ریلوے کی نجکاری، ملک سے غداری ” کے سلوگن کے تحت بھرپواحتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ۔ اس امرکافیصلہ پریم یونین کے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں کیاگیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پریم یونین کے چیئرمین ضیا الدین انصاری، صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیر محمد تونیو ، نائب صدر عبدالقیوم اعوان،چیف آرگنائزر خالد محمود چودھری نے کہا ہے کہ پہلے مرحلہ میں ملک بھر میں پوسٹرزاور پینڈ بل کے ذریعے ریلوے ملازمین اور عام پاکستانی شہری کو آگاہی اور منظم کرنے کا عمل شروع کردیا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ ریلوے کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے،منظم سازش کے تحت ریلوے کو بھی اسٹیل مل اور پی آئی اے بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ، وزارت ریلوے کی نااہلی کی وجہ سے ریلوے انتظامیہ حکومت کو ریلوے کاکیس صحیح طریقہ سے پیش نہیں کرسکی جس کی وجہ سے حکومت نے ریلوے کو نان ایسینشل کیٹگری میں ڈال دیاہے۔وزیراعظم سے اپیل ہے اس فیصلہ پردوبارہ نظرثانی کی جائے۔انہوں نے کہاکہ ریلوے کی کھربوں روپے کے اثاثہ جات کو لوٹنے کی تیاری کی جارہی ہے، ریلوے قومی وحدت کا ادارہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر ریلوے نے 88 ارب سے زائد ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے جو پچھلے مالی سال سے 40 فیصد زائدآمدن ہے ۔ ریلوے کو مالی سال کے آغاز میں حکومت سے 73 ارب آمدن کا ٹارگٹ ملا تھا۔ اتنے منافع بخش ادارے کی نجکاری ملک کی سالمیت کے خلاف سازش ہے ۔رہنمائوںنے کہاکہ پاکستان کے سب سے بڑے رفاعی و فلاحی ادارے کی نجکاری ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے ، کسی مائی کے لال کو ریلوے کی نجکاری کی اجازت نہیں دیں گے،ایک لاکھ ریلوے ملازمین اورپچیس کروڑعوام کی سستی سواری کی نجکاری کرکے عوام کو ذہنی اذیت سے دو چار کیا جارہاہے، ملازمین ریلوے کو بچانے کے لیے اپنا خون بہا دیں گے مگر کسی کو بھی نجکاری کے نام پر ریلوے کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے۔پریم یونین نے حافظ سلمان بٹ مرحوم کی قیادت میں ریلوے ملازمین کے حقوق کی جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اسے ہر حالت میں جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ریلوے کو پرائیویٹائز کرنے کے بجائے مزدوروں کے حوالے کردیا جائے،کسی بھی پرائیوٹ کمپنی سے زیادہ منافع فراہم کریں گے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ نئے پنشن اور گریجویٹی کے قانون کو ختم کرکے پرانانظام ہی بحال کیاجائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریم یونین کی نجکاری نے کہاکہ ریلوے کی انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔