پاکستان ٹیکس بار کاچیئرمین ایف بی آر کو گوادر میں مکمل سیکرٹریٹ کے قیام کیلئے خط
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
لاہور: پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے گوادر میں ریجنل ٹیکس آفس کے قیام کیلئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریو نیو راشد محمود لنگڑیال کو خط ارسال کر دیا ۔
زرائع کے مطابق صدر انورکاشف ممتاز،سینئر نائب صدور زاہد عتیق چودھری،فاروق مجید ،نائب صدور عاشق علی رانا،طاہر بشیر مغل،ملک صولت ستار،جنرل سیکرٹری ریحان صدیقی،جوائنٹ سیکرٹری سید عرفان حیدراور سیکرٹری اطلاعات عمران خان کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ گواد ر میں جو فیسٹیلیٹی آفس بنایا گیا ہے اس میں مطلوبہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ـ
گوادر بزنس حب ہے اور یہاں معاشی سر گرمیاں شروع ہو چکی ہیں جسے پیش نظر رکھتے ہوئے ایف بی آر کو اس علاقے میں مکمل ریجنل ٹیکس آفس قائم کرنا چاہیے ۔
خط کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ گوادر میں ٹیکس بار کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے ،پاکستان ٹیکس بار اور گوادر ٹیکس ایف بی آر کو ہر طرح کی معاونت فراہم کرنے کیلئے تیا رہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکس بار نے ٹیکس ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لئے ہمیشہ مثبت تجاویز دی ہیں ،گوادر کی مستقبل کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریجنل ٹیکس آفس کے قیام کی تجویز دی گئی ہے اور امید ہے کہ چیئرمین ایف بی آر تجویز پر پیشرفت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان ٹیکس بار ایف بی آر کو
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔