کراچی: سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد خوش آئند ہے مستقل امن کی طرف پیش خیمہ سمجھتے ہیں  ـ

زرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دھمکیوں سے باز رہیں معاہدے کی من وعن پاسداری کو یقینی بنایا جائے ،معاہدے کے بعد بھی اسرائیلی طیاروںکی بمباری کھلی بربریت اور دہشتگردی ہے ،فلسطین وکشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کیلئے اقوام متحدہ بلاتفریق کردار ادا کرئے ،فلسطین کے مسئلے کو اولین بنیادوں پر سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں حل کیا جائے ـ

طاقت کا استعمال کرنیوالے ظالم اسرائیل کے ہاتھ فلسطین کے 50ہزار سے زائد مظلوموں کے خون سے رنگے ہیں ،فلسطین کے غیور نہتے مظلوم عوام نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ظالم ہمیشہ مرعوب ہوتے رہینگے،فلسطین میں شہادت پانے والے معصوم بچوں وخواتین کی اکثریت زیادہ ہے  ـ

اسرائیل نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت معصوم بچوں اور اسپتالوں وآبادیوں کو نشانہ بنایا ہے ،اسرائیل جتنا چاہے ظلم کرلے دنیا کے نقشے پر ناجائز ریاست کے طور پر رہے گا

ان خیالات کا اظہار انہوں نے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد پر فلسطینی عوام اور حماس سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کیا ،محمد شاداب رضا نقشبندی کا کہنا تھا کہ فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی آزادی حق خود ارادیت کی تحریک کو دبنے نہیں دینگے ،عالمی عدالت جنگی جرائم کے عالمی مجرم نیتن یاہو کی گرفتاری کیلئے ہر ممکن اقدامات کرئے

انہوں کا کہنا تھا کہ فلسطین میں نہتے مظلوم عوام اور معصوم بچوں پر ہونے والے مظالم سے انسانیت لرز گئی ہے ،انسانی حقوق کی تنظیمیں ڈالر کی چمک کو چھوڑ کر انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے آواز حق بلندکریں

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر بین گویر جنونی اور ا نسانیت دشمن ہیں جن کے منہ کو خون لگ گیا ہے ،اقوام متحدہ عملی طور پر فلسطین میں پائیدار امن قائم کرنے اور فلسطین کے عوام کی زندگی کی بحالی وتعمیر کیلئے کردار ادا کرئے ،مسلم ممالک دل کھول کر فلسطینی عوام کی امداد اور گھروں کی بحالی کیلئے کام کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: فلسطین کے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم