ملکی مفاد میں پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے تیار ہوئی: شہرام ترکئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہرام خان ترکئی—فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہرام خان ترکئی کا کہنا ہے کہ ملکی مفاد میں پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہوئی ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہرام ترکئی نے کہا کہ غلط اور صحیح جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں، اب پتہ چلے گا کہ حکومت مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ ہے کہ نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہرام ترکئی نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی حکومت پر لوگ ہنس رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کو بھی کردار ادا کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ کُرم میں امن و امان کی صورتِ حال کے لیے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور متحرک ہیں۔
شہرام ترکئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملاقات جو بھی ہوئی ہے، آگے نتائج آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔