اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ اٹل، پی ٹی آئی کو ابہام میں نہیں رہنا چاہیے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا واضح پیغام ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات نہیں کریں گے، اب پی ٹی آئی کسی ابہام میں رہے تو یہ ان کی مرضی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرمی چیف واضح کہہ چکے ہیں کہ سیاسی مذاکرات کرنا ان کا مینڈیٹ نہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر سیاسی جماعتیں بیٹھ کر کسی نتیجے پر پہنچتی ہیں تو انہیں اعتراض نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں سیاسی ڈائیلاگ میں ڈیڈلاک، پی ٹی آئی نے مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں شرکت سے انکار کردیا
انہوں نے کہاکہ 9 مئی ایک کریمنل کیس ہے، اس میں سزا ہوگی یا معافی مل سکتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر اس سے قبل یہ واضح کرچکے ہیں 9 مئی پر معافی مانگی جائے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ جمہوری سسٹم میں مذاکرات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ ہم پی ٹی آئی کو جواب دینا چاہتے ہیں تو وہ اجلاس میں آنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے سب کمیٹی بنائی اس کا جواب تیار ہونے تک کمیشن کا نہیں بتا سکتا، ہم مستقبل میں بھی ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پیکا قانون میں ترمیم کرنے میں کوئی جلدی نہیں کی گئی، آج کسی آدمی کی عزت اور کردار فیک نیوز کی وجہ سے محفوظ نہیں، ناپسندیدہ افراد کی وجہ سے کروڑوں افراد عذاب جھیل رہے ہیں۔ سالہا سال سے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے پر صرف بات ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں حکومت 7 روز میں مطالبات پر جواب دے ورنہ چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی، پی ٹی آئی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کے دور میں ملک ریاض سے ہیرے کی انگوٹھیاں لی گئیں، 190 ملین پاؤنڈ لینے والا اگر قصور وار ہے تو دینے والا کا بھی قصور بنتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آرمی چیف اسٹیبلشمنٹ جوڈیشل کمیشن حکومت پی ٹی آئی مذاکرات رانا ثنااللہ سب کمیٹی مشیر وزیراعظم نو مئی وزیراعظم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف اسٹیبلشمنٹ جوڈیشل کمیشن حکومت پی ٹی ا ئی مذاکرات رانا ثنااللہ سب کمیٹی وی نیوز انہوں نے کہاکہ رانا ثنااللہ پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔