وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا واضح پیغام ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات نہیں کریں گے، اب پی ٹی آئی کسی ابہام میں رہے تو یہ ان کی مرضی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرمی چیف واضح کہہ چکے ہیں کہ سیاسی مذاکرات کرنا ان کا مینڈیٹ نہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر سیاسی جماعتیں بیٹھ کر کسی نتیجے پر پہنچتی ہیں تو انہیں اعتراض نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں سیاسی ڈائیلاگ میں ڈیڈلاک، پی ٹی آئی نے مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں شرکت سے انکار کردیا

انہوں نے کہاکہ 9 مئی ایک کریمنل کیس ہے، اس میں سزا ہوگی یا معافی مل سکتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر اس سے قبل یہ واضح کرچکے ہیں 9 مئی پر معافی مانگی جائے۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ جمہوری سسٹم میں مذاکرات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ ہم پی ٹی آئی کو جواب دینا چاہتے ہیں تو وہ اجلاس میں آنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے سب کمیٹی بنائی اس کا جواب تیار ہونے تک کمیشن کا نہیں بتا سکتا، ہم مستقبل میں بھی ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پیکا قانون میں ترمیم کرنے میں کوئی جلدی نہیں کی گئی، آج کسی آدمی کی عزت اور کردار فیک نیوز کی وجہ سے محفوظ نہیں، ناپسندیدہ افراد کی وجہ سے کروڑوں افراد عذاب جھیل رہے ہیں۔ سالہا سال سے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے پر صرف بات ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں حکومت 7 روز میں مطالبات پر جواب دے ورنہ چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی، پی ٹی آئی

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کے دور میں ملک ریاض سے ہیرے کی انگوٹھیاں لی گئیں، 190 ملین پاؤنڈ لینے والا اگر قصور وار ہے تو دینے والا کا بھی قصور بنتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آرمی چیف اسٹیبلشمنٹ جوڈیشل کمیشن حکومت پی ٹی آئی مذاکرات رانا ثنااللہ سب کمیٹی مشیر وزیراعظم نو مئی وزیراعظم وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف اسٹیبلشمنٹ جوڈیشل کمیشن حکومت پی ٹی ا ئی مذاکرات رانا ثنااللہ سب کمیٹی وی نیوز انہوں نے کہاکہ رانا ثنااللہ پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم