دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن ہر سال 24 جنوری کو منایا جاتا ہے تاکہ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور ہر فرد تک اس کی رسائی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔

یہ دن عالمی سطح پر اس بات کو تسلیم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور ہر انسان کو معیاری تعلیم تک رسائی ہونی چاہیے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ تعلیمی فرق کو کم کر کے ایک مساوی اور انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کا وہ اسکول جہاں بچے تعلیم کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی کماتے ہیں

کاروان مدبر ایک ایسا ادارہ ہے جو پاکستان میں تعلیم کی رسائی کو ان افراد کے لیے آسان بنا رہا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کر سکتے یا وہ بچے جو تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے۔ یہ بچے عموماً متوسط یا بے گھر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

عبداللہ کاروان مدبر میں اسٹریٹ اسکول کے ہیڈ ہیں۔ انہوں نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پروجیکٹ تقریباً 4 سال پہلے شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد بچوں کو کھیل کے ذریعے تعلیم کی طرف راغب کرنا تھا تاکہ وہ پڑھائی کو کھیل کی صورت میں دیکھیں اور اس میں دلچسپی لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم دیتے ہیں جس سے وہ خوشی سے روز آنا شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ہم انہیں بنیادی تعلیم دیتے ہیں تاکہ جب ہم انہیں اسکولوں میں داخل کرائیں تو وہ بآسانی ٹیسٹ پاس کر سکیں۔

مزید پڑھیے: ملک بھر میں گرلز اسکولوں کی صورتحال، تلخ حقائق کیا ہیں؟

اب تک اس پروجیکٹ کے ذریعے 100 سے زیادہ بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کی جا چکی ہے اور انہیں مختلف مدرسوں اور اسکولوں میں داخلے دلوائے گئے ہیں۔ اس وقت بھی 30 سے 40 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جنہیں مختلف گروپوں میں تقسیم کر کے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ہر بچے پر بہتر طریقے سے توجہ دی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹریٹ اسکول بے گھر بچے تعلیم کا عالمی دن کاروان مدبر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریٹ اسکول بے گھر بچے تعلیم کا عالمی دن کاروان مدبر تعلیم کی بچوں کو

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا