Express News:
2025-04-25@11:04:26 GMT

پیکا ایکٹ کے بعد صحافیوں کو ہتھکڑیاں لگیں گی، عمر ایوب

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT

اسلام آباد:

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ فارم 47 کی حکومت بھی پیکا قوانین کا نشانہ بنے گی، اس ایکٹ کے بعد صحافیوں کو ہتھکڑیاں لگیں گی۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو اور صحافیوں کے پیکا ایکٹ کیخلاف مظاہرے سے خطاب میں عمر ایوب نے کہا کہ  پیکا ایکٹ زبانیں بند کرنے کا کالا قانون ہے، تمام صحافتی تنظمیں متفق ہیں کہ پیکا ایکٹ منظور نہیں، تمام صحافتی تنظمیں متحد ہوکر آگے بڑھیں اپوزیشن ساتھ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ مذاکرات کو سنجیدہ لیں، اس سب کا نقصان حکومت کو ہوگا، چھبیسویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو کمزور کیا گیا، عدلیہ کو تقسیم کرکے آپس میں لڑایا گیا، پیکا ایکٹ سے آوازوں کو دبایا جارہا ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے لکھا کہ ایجنسیاں ان کے کام میں مداخلت کر رہی ہیں، القادر ٹرسٹ کیس اس کی واضح مثال ہے، یہ ایک کالا فیصلہ ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں۔

عمر ایوب نے کہا کہ معیشت ڈوب چکی، انٹرنیٹ بند کردیا گیا ہے، وزیراعظم کہتا ہے ڈیجیٹل پاکستان بنائیں گے، تم شارک مچھلی کو کنٹرول نہیں کرسکتے، حکومت ہوش کے ناخن لیں ہم حکومتی اقدامات مسترد کرتے ہیں، 9 مئی اور 26 نومبر کا جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مذاکرات ختم کردیے ہیں۔

بیرسٹر گوہر خان

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ  آئین کہتا ہے 130 دن سیشن چلے گا مگر یہاں 90 دن چلا ہے، 37 بل پاس ہوئے ہیں مگر کسی بھی قانون کے لیے بحث نہیں کی گئی، آج 11 منٹ میں 8 قانون پاس کرلیے گئے، یہ وہ قوانین ہیں جن کو صدر نے ریجکٹ کردیا تھا، آئین کے مطابق صدر کے اعتراض کو دیکھا جاتا ہے اس کے بعد قانون پاس کراتے ہیں، آج تمام بل پاس ہوئے مگر صدر کے ریفرنس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

بیرسٹر گوہرنے کہا کہ انڈیا میں لوک سبھا 6 گھنٹے چلتا ہے، یہاں کورم تک پورا نہیں ہوتا اور اجلاس ملتوی کردیا جاتا ہے، اس سال جیسے ایوان چلا ہے اس کو دنیا یاد رکھے گی، ہمارے خلاف لمبی چارج شیٹ ہے ، لمبی چارج شیٹ کے باوجود بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا کہا اور دو مطالبات رکھے، حکومت تحریری مطالبات کی مانگ کی ہم نے وہ بھی دے دیے، دن گزر گیا حکومت نے کل کے دن کے بعد بھی جوڈیشل کمیشن کا اعلان نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر اب ہم کسی اور اجلاس میں نہیں جارہے، حکومت اب تک کمشین سے متعلق کچھ تو بات کرتی۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے صحافیوں کے مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ انفارمیشن و ڈس انفارمیشن کی آڑ میں آزادی اظہار کا گلا دبایا جارہا ہے، حکومت سینیٹ میں پیکا ایکٹ کی منظوری روکے حکومت اپوزیشن اور تمام صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لے۔

شبلی فراز

پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا کہ پیکا ایکٹ میں کی گئی ترامیم میڈیا کے نمائندوں کو کال کوٹھری میں لے جانے کے لیے ہیں، کوشش کی جارہی ہے لوگوں کے احتجاج اور آواز کو کیسے دبایا جائے، پھر کہتے ہیں پاکستان میں لوگ انویسٹمنٹ نہیں کررہے، لوگ پاکستان میں انویسٹمنٹ کیسے کریں جب ایسے قانون پاس ہورہے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اکانومی کے لحاظ سے پیچھے جا رہا ہے، آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کیسے ممکن ہے؟، اس ملک میں بہت دباؤ آچکا ہے، افسوس کا مقام ہے اس وقت حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی خاموش ہیں، ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔

شبلی فراز نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ ’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں، چلی ہے رسم کہ کوئی نا سر اٹھا کر چلے‘ یہ والی صورتحال آنے والی ہے، ملک کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے، جب تک اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوگی ملک آگے نہیں بڑھے گا، حکومت ہوش کے ناخن لے، یہ حکومت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے، ہماری جہدوجہد جاری رہے گی۔

زرتاج گل

پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی زرتاج گل نے صحافیوں کے پیکا ایکٹ کے خلاف دھرنے سے خطاب میں کہا کہ پیکا ایکٹ منظور کرنے والوں نے آزادی اظہار کا گلا دبانے کی کوشش کی ہے، پی ٹی آئی نے پیکا ایکٹ کی مخالفت کی ہے، پی ٹی آئی میڈیا پر حملے کے خلاف صحافیوں کے ساتھ ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عمر ایوب نے کہا بانی پی ٹی آئی صحافیوں کے پیکا ایکٹ نے کہا کہ کے بعد

پڑھیں:

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کی پیٹھ پر وار کر رہے ہیں۔ عمر ایوب

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، ہر کسی کا اپنا نقطہ نظر ہے۔ عمر ایوب کا کہنا ہے کہ گرینڈ الائنس کا پہلا مطالبہ نئے انتخابات کرانا ہوگا، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کی پیٹھ پر وار کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ رانا ثناء اللّٰہ کہتے ہیں معافی مانگیں تو کیا سب ختم ہو جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 706 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہے معیشت کیسے چل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نازیبا ویڈیوز کی تشہیر پر کریک ڈاؤن، لاہور میں پیکا ایکٹ کے تحت 23 مقدمات درج
  • لاہور: اہم شخصیات کی نازیبا ویڈیو بنانے پر پیکا ایکٹ کے تحت 23 مقدمات درج
  • پیکا ایکٹ؛ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کیخلاف 24 گھنٹوں میں 23 مقدمات درج
  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ ہے، حکومت کا رویہ بزدلانہ ہے: عمر ایوب
  • پہلگام حملہ، کشمیری مسلمان بھارتی صحافیوں کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر سراپا احتجاج
  • حساس اداروں سمیت سربراہ کیخلاف توہین آمیز پوسٹ، پیکا ایکٹ کے تحت شہری پر مقدمہ درج
  • پیکا ایکٹ میں ترمیم کیخلاف درخواست: حکومت، پی ٹی اے اور پیمرا کو نوٹس جاری
  • حساس اداروں سمیت سربراہ کیخلاف توہین آمیز پوسٹ؛ پیکا ایکٹ کے تحت شہری پر مقدمہ درج
  • حساس اداروں سمیت سربراہ کیخلاف توہین آمیز پوسٹ؛ پیکا ایکٹ کے تحت شہری پر مقدمہ درج
  • پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کی پیٹھ پر وار کر رہے ہیں۔ عمر ایوب