WE News:
2026-06-03@06:48:40 GMT

پاس کیز روایتی پاس ورڈز کا محفوظ متبادل ہوسکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

پاس کیز روایتی پاس ورڈز کا محفوظ متبادل ہوسکتا ہے؟

ایک ایسے دور میں جب سائبر جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں، کمپیوٹر سیکیورٹی کو اولین ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

آج کسی حملہ آور کو آپ کا پیچیدہ پاس ورڈ جاننے کی ضرورت نہیں رہتی، صرف ایک فِشنگ ای میل ہی آپ کا پاس ورڈ چرا سکتی ہے، جو کسی بڑے ڈیٹا بریک کا سبب بن سکتی ہے۔

روایتی پاس ورڈز اب غیر محفوظ اور پرانے محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے دوبارہ استعمال یا چوری کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایسے 10 پاسورڈز جو آسانی سے ہیک ہوسکتے ہیں

اس کے برعکس، پاس کیز (Passkeys) کو اب زیادہ محفوظ اور تیز رفتار متبادل سمجھا جا رہا ہے۔

ایسے دور میں جب صرف ایک متاثرہ پاس ورڈ آپ کی پوری ڈیجیٹل زندگی تک رسائی دے سکتا ہے۔

پاس کیز تصدیق کے لیے کرپٹوگرافی استعمال کرتی ہیں۔ ویب سائٹ پر پبلک کی (key) محفوظ کی جاتی ہے، جب کہ پرائیویٹ کی آپ کی ڈیوائس میں رہتی ہے۔

مزیدپڑھیں: تاریخ کا سب سے بڑا ڈیٹا لیک، 16 ارب سے زائد پاس ورڈز افشا، اب کیا ہوگا؟

یہی وجہ ہے کہ فِشنگ یا پاس ورڈ چوری تقریباً ناممکن بن جاتا ہے۔

پاس کیز استعمال کرنے کے لیے کیمرہ یا فنگر پرنٹ ریڈر ضروری نہیں، ونڈوز صارفین ونڈوز ہیلو پن کے ذریعے انہیں ان لاک کر سکتے ہیں، جبکہ میک صارفین ٹچ اور فیس آئی ڈی یا پاس کوڈ سے ان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ابھی تمام ویب سائٹس پاس کیز کو سپورٹ نہیں کرتیں، اس لیے صارفین کو متبادل کے طور پر مضبوط اور منفرد پاس ورڈز رکھنا ہوں گے۔

مزید پڑھیں: گوگل کی نئی اپڈیٹ، پاسورڈ کے بغیر اکاؤنٹ کو کیسے لاگ اِن کریں گے؟

پاس ورڈ منیجرز اس خلا کو پُر کرتے ہیں، جو پاس ورڈز اور پاس کیز دونوں کو محفوظ طور پر ذخیرہ کرتے ہیں۔

سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ صارفین معتبر اینٹی وائرس سافٹ ویئر انسٹال کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال رکھیں۔

اور ہاں، باقاعدگی سے اپنے ڈیٹا کا بیک اپ بناتے رہیں، تاکہ میلویئر، ڈیٹا لاس اور فِشنگ جیسے خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

مزید پڑھیں: 18 کروڑ سے زیادہ صارفین کے پاسورڈ اور حساس معلومات چوری، فوری کیا اقدامات کرنے چاہییں؟

پاس کیز یقیناً ایک بڑی پیش رفت ہیں، لیکن یہ پاس ورڈز کا مکمل متبادل نہیں۔

پاس کیز، مضبوط پاس ورڈز اور محفوظ پاس ورڈ مینیجر کا مجموعہ ہی ڈیجیٹل زندگی کو فِشنگ حملوں سے محفوظ رکھنے کا مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاس کیز پاس ورڈز ڈیٹا بریک ڈیجیٹل سائبر حملوں فنگر پرنٹ کیمرہ میک ونڈوز ویب سائٹس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاس کیز پاس ورڈز ڈیٹا بریک ڈیجیٹل سائبر حملوں کیمرہ میک ونڈوز ویب سائٹس پاس ورڈز پاس ورڈ پاس کیز کے لیے

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان