Nai Baat:
2026-07-24@13:23:03 GMT

کرم یافتہ سی پی او گوجرانوالہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT

کرم یافتہ سی پی او گوجرانوالہ

سی پی او گوجرانوالہ رانا ایاز سلیم کو میں نے اپنے پچھلے کالم میں سرکار کا ”انعام یافتہ“ قرار دیا تھا کیونکہ وہ اپنی حقیقی اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر حکومت پنجاب کی جانب سے کیش انعام کے مستحق قرار پائے تھے ، اب میں ا±نہیں اللہ کا”کرم یافتہ“ قرار دیتا ہوں ، اللہ کے کرم یافتہ لوگوں کی سب سے بڑی خوبی یا پہچان یہ ہوتی ہے وہ اپنے در پر آنے والے کسی سوالی کو ا±س کا جائز کام کئے بغیر واپس نہیں بھجواتے ، اور کئی حوالوں سے ہمارے ناقص قانون کے مطابق کسی کا تھوڑا بہت کوئی ناجائز کام بھی ہو کوشش کرتے ہیں ا±سے بھی مایوس نہ کریں ، یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے ، اپنی ستائش مقصود نہیں اپنے کچھ منفی ذہنیت کے دوست افسروں سے گزارش کرنا مقصود ہے ، ایک بار میں گورنمنٹ کالج میں اپنے محترم پرنسپل کے پاس بیٹھا تھا ، ایک سٹوڈنٹ ا±ن کے آفس میں داخل ہوا کہنے لگا سر مجھے ہیپاٹائٹس سی ہو گیا تھا میں زیرعلاج رہا یہ میرا ہسپتال کا ریکارڈ ہے ، میں نے ایک ماہ کی رخصت کی درخواست اپنے دوست کو دی تھی ، وہ دوست بھی ابھی آپ کے آفس کے باہر کھڑا ہے ، وہ میری درخواست آفس میں جمع کروانا بھول گیا تھا ، اب میں واپس آیا ہوں پتہ چلا انٹر کے امتحان کے لئے میرا داخلہ میری حاضریاں کم ہونے کی وجہ سے نہیں بھجوایا جا رہا ، سر میری میٹرک میں فرسٹ پوزیشن تھی اگر میرا داخلہ نہ بھیجا گیا میں امتحان نہیں دے سکوں گا اور میرا ایک سال ضائع ہو جائے گا ، میرا مستقبل تباہ ہو جائے گا“ ، پرنسپل ا±س کے ہاتھ میں موجود ریکارڈ چیک کئے بغیر بولے”ہم نے ایک پالیسی بنائی ہے جس کے مطابق ہم بورڈ میں داخلہ صرف ا±سی طالبعلم کا بھیجیں گے جس کی کم از کم اسی فی صد حاضریاں ہوں گی ،آپ کی حاضریاں اگر پوری نہیں آپ کا داخلہ کسی صورت میں نہیں جائے گا چاہے آپ کتنے ہی بیمار کیوں نہ رہے ہوں ، یہ ہمارے قواعد و ضوابط کا معاملہ ہے“ ، طالب علم نے منت ترلہ جاری رکھا ، پرنسپل نے چوکیدار کو حکم دیا اسے باہر نکال دو ، وہ بھیگی آنکھوں سے باہر نکل گیا ، میں ا±س کے پیچھے گیا ، میں نے ا±سے آواز دی ا±س کے علاج کا ریکارڈ چیک کیا جو بالکل درست تھا ، میں ا±سے کالج کے ہیڈ کلرک کے پاس لے گیا اور ا±س سے کہا”اس طالب علم کا مسئلہ بہت جائز ہے پرنسپل اس کی بات نہیں مان رہے ،ہم اس کی کیا مدد کر سکتے ہیں ؟ ہیڈ کلرک میرا بہت مہربان تھا ، دو روز پہلے ا±س کے ایک سب انسپکٹر بھائی کا ا±س کی من پسند جگہ پر میں نے تبادلہ کرایا تھا ، اس پر وہ اور مہربان ہوگیا تھا ، ا±س نے کہا ”سر اب یہ معاملہ چونکہ پرنسپل کے نوٹس میں آگیا ہے ، اب اگر ہم نے اس کا داخلہ بھجوایا ہمارے لئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے“ ، میں نے کہا” آپ کو پرنسپل سے ڈرنے کی ضرورت نہیں آپ بس یہ بتائیں ہم اس کا کام کس طرح کر سکتے ہیں ؟“ ، ا±س نے حل یہ ڈھونڈا ، مجھ سے کہا” سر اگر آپ اس کے لازمی مضامین انگریزی اور ا±ردو وغیرہ کے پروفیسر صاحبان سے گزارش کر کے پچھلے ایک ماہ کا نیا حاضری رجسٹر تیار کروا کے اس کی حاضریاں پوری کروا دیں ہم خاموشی سے اس کا داخلہ بھجوا دیں گے“ ، میں نے یہ کر لیا ، ا±س طالب علم نے انٹر کے امتحان میں بورڈ میں ٹاپ پوزیشن لی ، پرنسپل بہت حیران ہوئے اس کا داخلہ کیسے چلے گیا تھا ؟ میں نے ا±نہیں ساری داستان س±نائی ساتھ یہ عرض کیا” سر یہ بچہ آپ کے پاس آیا تھا ، آپ بیچ میں قواعد و ضوابط لے آئے ، آپ کو اس کی مدد کی توفیق ہی نہیں ملی ، یہ توفیق اللہ نے مجھے بخشی ، اس کا کام ہوگیا اور آج اس بچے نے ٹاپ پوزیشن حاصل کر کے کالج کا نام روشن کر دیا“ ، گوجرانوالہ میں پچھلے دو برسوں میں رانا ایاز سلیم نے بطور سی پی او سخت محنت کی ، اکیس تھانوں کی بہترین تزئین و آرائش کرائی ، گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی مدد سے بہترین خدمت مراکز بنوائے ، پنک ویلز کے نام سے لیڈیز پولیس کا ایک سکوائرڈ قائم کیا جو خواتین کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کے بعد فوری طور پر موقع واردات پر پہنچتا ہے ، پولیس لائنز میں ملازمین کے لئے بہترین میس بنوایا ، سی پی او آفس اس سے پہلے ایک کھنڈر تھا ، ایک تو سائل پولیس سے ڈرتے ہیں ، اس کھنڈر کی الگ ایک وحشت تھی ، اس کھنڈر کی اس طرح تعمیر نو کروائی اب یہ ایک آرٹ گیلری لگتی ہے، اپنی اپنی درخواستیں لے کر آنے والے پہلے باہر دھوپ اور ٹھنڈ میں بیٹھتے تھے اب ا±ن کے لئے بہترین ہال تیار کروایا گیا ہے جہاں موسم کے مطابق مشروبات سے ا±ن کی تواضع بھی کی جاتی ہے ، یادگار شہدائے پولیس کی تعمیر نو بھی کروائی گئی ، پولیس ملازمین کے لئے ا±س پولیس ہسپتال کو اپ گریڈ کیا گیا ہے جس کی بنیاد ہمارے محترم بھائی طارق عباس قریشی نے رکھی تھی جب وہ آر پی او گوجرانوالہ تھے ، گوجرانوالہ پولیس ا±ن کے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھنے کی دعویدار ہے ، صرف یہی نہیں ہوا گوجرانوالہ میں کرائم کنٹرول کرنے کی بھر پور کوشش بھی ہوئی ، جس کے مثبت نتائج ملے ، یہ سب کارنامے ایک انتہائی شاندار اور ایماندار آر پی او گوجرانوالہ طیب حفیظ چیمہ کی سرپرستی اور ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضا تنویر ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن رضوان طارق اور سی ٹی او عائشہ بٹ پر مشتمل بہترین اور محنتی ٹیم کی موجودگی میں ممکن ہوئے ، اس اعلیٰ کارکردگی پر رانا ایاز سلیم کو میں نے”انعام یافتہ سی پی او گوجرانوالہ“ کہا تھا ، اب میں ا±نہیں ”کرم یافتہ“ سی پی او گوجرانوالہ اس لئے کہہ رہا ہوں ا±ن کے پاس آنے والا کوئی مظلوم مایوس واپس نہیں لوٹتا ، وہ ا±س کی مدد کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ، اور بعض اوقات انسانوں کے خلاف بنائے گئے قواعد و ضوابط میں نرمی کے اپنے اختیارات بھی استعمال کر لیتے ہیں ، خصوصا ًجس طرح شہدائے پولیس کے لواحقین کا اپنی فیملی کی طرح وہ خیال رکھتے ہیں یہ اللہ کا کرم یافتہ شخص ہی رکھ سکتا ہے ، ا±ن پر لکھے گئے گزشتہ کالم کے بعد بیشمار پولیس افسروں نے مجھ سے کہا”آپ نے بالکل ٹھیک ستائش کی ہے“ ، ان میں ایسے پولیس افسران بھی تھے جو صرف اپنی ستائش پر خوش ہوتے ہیں ، اس کے بعد میں ا±نہیں اللہ کا کرم یافتہ شخص نہ کہوں تو کیا کہوں ؟ دوسری طرف سی پی او فیصل آبادہے جس کی نااہلیوں و بددیانتیوں کے شواہد اللہ جانے کیوں کچھ لوگ اور کچھ پولیس ملازمین مسلسل مجھے بھجواتے جا رہے ہیں ؟ ، میں ا±ن شواہد پر اس لئے یقین نہیں کرتا کہ میرے نزدیک کوئی پولیس افسر اس گھٹیا لیول تک جا ہی نہیں سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: کرم یافتہ کا داخلہ ن کے لئے گیا تھا پولیس ا کے پاس ا نہیں

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری

بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر  میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔

یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔

بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز  قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔

بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔

سی آر پی ایف  سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار