ایس آئی ایف سی کے تعاون سے چین کی میڈیکل آلات کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
چین کی 80 کمپنیوں نے پاکستان میں طبی آلات کے شعبے میں شراکت داری کے لیے دلچپسی کا اظہار کردیا۔
اسپشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کی سہولت کاری اور حکومتی کاوشوں کے باعث چین کی 80 کمپنیوں نے پاکستان میں طبی آلات کے شعبے میں شراکت داری کے لیے دلچسپی کا اظہارکردیا۔ میڈیکل اور سرجیکل شعبے میں تجارت کےفروغ کے لیے تقریباً 250 ملین ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں میڈیکل آلات کے شعبے کی مزید ترقی کے لیے جوائنٹ وینچرز کے قیام پر زوردیا۔
چین کی جدید ٹیکنالوجی طبی صنعت کو ترقی دینے میں معاون ثابت ہوگی جبکہ ٹیکس مراعات اور لیبر فورس سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان کی میڈیکل صنعت کی مالیت 600 ملین ڈالر سے زائد ہے۔ چینی سرمایہ کاری سے مزید ترقی کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آلات کے شعبے کے لیے چین کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔