ایس آئی ایف سی کے تعاون سے چین کی میڈیکل آلات کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
چین کی 80 کمپنیوں نے پاکستان میں طبی آلات کے شعبے میں شراکت داری کے لیے دلچپسی کا اظہار کردیا۔
اسپشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کی سہولت کاری اور حکومتی کاوشوں کے باعث چین کی 80 کمپنیوں نے پاکستان میں طبی آلات کے شعبے میں شراکت داری کے لیے دلچسپی کا اظہارکردیا۔ میڈیکل اور سرجیکل شعبے میں تجارت کےفروغ کے لیے تقریباً 250 ملین ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں میڈیکل آلات کے شعبے کی مزید ترقی کے لیے جوائنٹ وینچرز کے قیام پر زوردیا۔
چین کی جدید ٹیکنالوجی طبی صنعت کو ترقی دینے میں معاون ثابت ہوگی جبکہ ٹیکس مراعات اور لیبر فورس سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان کی میڈیکل صنعت کی مالیت 600 ملین ڈالر سے زائد ہے۔ چینی سرمایہ کاری سے مزید ترقی کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آلات کے شعبے کے لیے چین کی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔