دنیا کا جدید ترین امریکی جنگی طیارہ ایف 35 گر کر تباہ ،خوفناک حادثے میں پائیلٹ محفوظ رہا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
امریکہ کا جدید ترین فائٹر جیٹ ایف 35 حادثے کا شکار ہوگیا ہے، تاہم، اس خوفناک حادثے میں پائلٹ محفوظ رہا۔منگل کے روز الاسکا میں ایک تربیتی مشق کے دوران ایف 35 جنگی طیارہ لینڈنگ کے دوران ایلسن ایئر فورس بیس پر گر کر تباہ ہوگیا۔
کینیڈن کرنل پال ٹاؤنڈسن، جو 354 ویں فائٹر ونگ کے کمانڈر ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پائلٹ نے حادثے سے پہلے فضائی ایمرجنسی کی کال دی تھی۔ پائلٹ کو اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔
اس حادثے میں طیارے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ایئر فورس نے بیان میں کہا ہے کہ اس حادثے کے بعد ایک تفصیلی تحقیقات کی جائے گی تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
ایلسن ایئر فورس بیس فیئر بینکس سے تقریباً 25 میل (40 کلومیٹر) جنوب میں واقع ہے۔ 2016 میں ایلسن ایئر فورس بیس کو 54 ایف 35 طیاروں کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جس کے بعد بیس میں نصف ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے توسیع کی گئی تھی۔ اس توسیع میں 36 نئے عمارتیں اور رہائشی یونٹ شامل تھے۔
گزشتہ سال مئی میں بھی ایک ایف 35 طیارہ نیو میکسیکو میں ایندھن بھرنے کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا تھا جس میں پائلٹ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اکتوبر میں بھی ایک ایف 35 طیارے کے پائلٹ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے غیر ضروری طور پر طیارے سے باہر نکل کر طیارے کو بے قابو چھوڑ دیا تھا، جس کے نتیجے میں طیارہ 11 منٹ تک بغیر پائلٹ کے پرواز کرتا رہا، اور پھر جنوبی کیرولائنا میں گر کر تباہ ہوگیا۔
بھارت میں کمبھ کے میلے میں بھگدڑ،15افراد ہلاک، متعدد زخمی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایئر فورس کیا گیا گیا تھا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔