امریکہ کا جدید ترین فائٹر جیٹ ایف 35 حادثے کا شکار ہوگیا ہے، تاہم، اس خوفناک حادثے میں پائلٹ محفوظ رہا۔منگل کے روز الاسکا میں ایک تربیتی مشق کے دوران ایف 35 جنگی طیارہ لینڈنگ کے دوران ایلسن ایئر فورس بیس پر گر کر تباہ ہوگیا۔

کینیڈن کرنل پال ٹاؤنڈسن، جو 354 ویں فائٹر ونگ کے کمانڈر ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پائلٹ نے حادثے سے پہلے فضائی ایمرجنسی کی کال دی تھی۔ پائلٹ کو اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔

اس حادثے میں طیارے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ایئر فورس نے بیان میں کہا ہے کہ اس حادثے کے بعد ایک تفصیلی تحقیقات کی جائے گی تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

ایلسن ایئر فورس بیس فیئر بینکس سے تقریباً 25 میل (40 کلومیٹر) جنوب میں واقع ہے۔ 2016 میں ایلسن ایئر فورس بیس کو 54 ایف 35 طیاروں کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جس کے بعد بیس میں نصف ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے توسیع کی گئی تھی۔ اس توسیع میں 36 نئے عمارتیں اور رہائشی یونٹ شامل تھے۔

گزشتہ سال مئی میں بھی ایک ایف 35 طیارہ نیو میکسیکو میں ایندھن بھرنے کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا تھا جس میں پائلٹ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اکتوبر میں بھی ایک ایف 35 طیارے کے پائلٹ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے غیر ضروری طور پر طیارے سے باہر نکل کر طیارے کو بے قابو چھوڑ دیا تھا، جس کے نتیجے میں طیارہ 11 منٹ تک بغیر پائلٹ کے پرواز کرتا رہا، اور پھر جنوبی کیرولائنا میں گر کر تباہ ہوگیا۔
بھارت میں کمبھ کے میلے میں بھگدڑ،15افراد ہلاک، متعدد زخمی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایئر فورس کیا گیا گیا تھا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل