وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے غیر قانونی طریقوں سے شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے میں ملوث نیٹ ورک کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا،ایف آئی اے امیگریشن نے حالیہ کارروائی میں مزید سات ڈ ی پورٹ ہونیوالے پاکستانیوں کو تحویل میں لیا جن سے تفتیش جاری ہے جبکہ سہولت کاری میں ملوث ملزم کو بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ مراکش کے ساحل کے قریب پیش آنے والے کشتی حادثے کے بعد ایف آئی اے نے غیر قانونی سمندری راستوں کے ذریعے بیرون ملک جانے والے گروہوں کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ اس کارروائی میں اب تک متعدد انسانی سمگلنگ نیٹ ورکس بے نقاب ہو چکے ہیں، جبکہ مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔حراست میں لئے گئے مسافروں میں مہتاب، محمد خلیق، گل شامیر، وسیم، علی حسن، بلاول اقبال اور عمر فاروق شامل ان افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں، بشمول گجرات، شیخوپورہ، سیالکوٹ، منڈی بہاﺅالدین، نارووال اور راولپنڈی سے ہے۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک اہم سہولت کار عبدالغفار کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات کے دوران مزید ایجنٹوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ مسافر فلائٹ نمبر QR614 اور EK612 کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، انہوں نے ایجنٹوں سے اسپین پہنچنے کیلئے لاکھوں روپے فی کس ادا کئے تھے۔ ایجنٹوں نے ان افراد کو وزٹ ویزے پر دبئی، ایتھوپیا اور پھر سینیگال بھیجا جہاں سے انہیں کشتی کے ذریعے سپین روانہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، ایجنٹوں نے متاثرین کو شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے )نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ بیرون ملک جانے کے لیے ہمیشہ متعلقہ ملک کی ایمبیسی سے رجوع کریں اور کسی بھی غیر قانونی ذریعہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ مزید برآں، اپنے ذاتی دستاویزات کسی غیر متعلقہ شخص کو فراہم نہ کریں اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کی نشاندہی کیلئے ایف آئی اے کے قریبی سرکل سے رابطہ کریں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ایف آئی اے گجرات نے مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر عدیل احمد کو گرفتار کیا تھا۔ایف آئی اے کے مطابق مظفر گڑھ میں کارروائی کرکے موریطانیہ کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار کیا گیاتھا جس نے گجرات کے رہائشی ریحان سے 40 لاکھ روپے وصول کئے تھے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) گجرات اور ڈی جی مظفر گڑھ نے مشترکہ کارروائی کے دوران مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلرکی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ایف آئی اے کے مطابق ملزم عدیل حادثے کے بعد سے روپوش تھا جس کے خلاف ریحان کے ورثا نے مقدمہ درج کرایا تھا۔ ملزم کو گرفتاری کے بعد گوجرانوالہ منتقل کیا جائے گا۔ایف آئی اے ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ کے گھر والوں نے رقم گرفتار ملزم کے بینک اکاونٹ میں ٹرانسفر کیں۔ ملزمان کی جانب سے متاثرہ کو پاکستان سے دبئی اور پھر دبئی سے ایتھوپیا، سینیگال بھجوایا گیا تھا۔ریحان سینیگال سے موریطانیہ پہنچا اورپھرکشتی حادثے میں جاں بحق ہواتھا۔ایف آئی اے ترجمان کا کہناتھا کہ ملزم نے ساتھیوں کیساتھ ملکر متاثرہ کو کشتی کے ذریعے موریطانیہ سے اسپین سمگلنگ کی کوشش کی تاہم کشتی حادثے میں متاثرہ کی موت ہوگئی۔ متاثرہ شخص لا تعلق جوڑہ کھاریاں سے تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کشتی حادثے میں ایف آئی اے میں ملوث کے ذریعے کے مطابق

پڑھیں:

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔ محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی