Jasarat News:
2026-07-24@14:34:37 GMT

میرا برانڈ پاکستان، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT

میرا برانڈ پاکستان، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

پاکستان بزنس فورم کے زیر اہتمام 18 اور 19 جنوری کو میرا برانڈ پاکستان نمائش نہ صرف اپنی نہاد میں ایک خوش آئند اقدام تھا بلکہ اس کے ساتھ یہ ایک انتہائی کامیاب اور بہترین پیغام لے کر آیا تھا نہ صرف کراچی والوں کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے کہ ہم اپنی قوت کو پہچانیں، اور دنیا کو بتائیں کہ ہمارے پاس صرف غیر ملکی برانڈز نہیں ہیں بلکہ غیر ملکی برانڈ ہی کی طرح اور ان سے اچھے متبادل پاکستانی برانڈز موجود ہیں، بہت سے برانڈز کا ہمیں پتا نہیں تھا کہ پاکستانی ہیں اور اس نمایش میں ہمیں نظر آیا کہ ارے واہ یہ بھی پاکستانی برانڈز ہیں بہت عرصے سے اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور ہم اس بات کو ثابت کریں کہ پاکستانی کسی چیز میں بھی پیچھے نہیں، یہ احساس تو تھا کہ پاکستانی قوم بہت باصلاحیت ہے اور بہت ہنرمند ہے لیکن ہمیں پتا نہیں چلتا کس کس میدان میں کس کس چیز میں پاکستانی کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔

18 اور 19 جنوری کو ہونے والی نمایش میں پاکستان بزنس فورم نے جو پلیٹ فارم مہیا کیا اس پر نہ صرف وہ مبارکباد کے مستحق ہیں بلکہ انہوں نے پاکستانیوں کو یہ پیغام پہنچایا کہ وہ یہ سوچ سکیں کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں اور ہم بہت کچھ کر رہے ہیں۔ اس نمایش میں نظر آنے والی مصنوعات کے علاوہ بھی ابھی بہت کچھ ہے اور بھی کمپنیاں اور برانڈز ہوں گے، جو اس مرتبہ شامل نہ ہو سکے ہوں یہ کمپنیاں بڑی بڑی ہوں یا کچھ اور چھپی ہوئی وہ ان شاء اللہ اگلے سال سب کو نظر آ جائیں گی۔ پاکستان بزنس فورم کے تحت ہونے والی میرا برانڈ پاکستان، نمایش میں بہت سے ایس ایم ایز کو سامنے آنے کا موقع ملا اور انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی اشیا کا معیار بھی اچھا ہے اسے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

باہر کے برانڈز پیکنگ اور پیشکش یعنی پریزینٹیشن میں آگے ہیں اور یہ کام پاکستانی بھی کرسکتے ہیں۔ اس نمایش میں پاکستان کے کئی بڑے بڑے برانڈز نظر نہیں آئے، اب لوگ ان کی بھی آمد کے منتظر رہیں گے۔ اس نمایش میں نہ صرف مصنوعات ملبوسات اور کھانے پینے کی چیزیں نظر آئیں بلکہ بہت سی ایسی چیزیں جو ہم سمجھتے رہے کہ غیر ملکی اس میں زیادہ آگے ہیں، ان میں بھی پاکستانی بہت آگے نظر آئے۔ جیسے ینگز والوں کے پیزا اور برگر اور مارننگ فریش کے کیک پیسٹری اور سینڈوچ واقعی اپنے معیار میں بہت اچھے ثابت ہوئے اور بہت مزیدار بھی۔ ہماری طرح بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی آوٹ لیٹ کہاں کہاں ہیں یا وہ صرف آن لائن کام کرتے ہیں۔ وہ اپنا ایک معیار رکھتے ہیں اور ایک معیار قائم کر چکے ہیں تو ان کو سامنے آنا چاہیے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنی چیزوں سے مستفید ہو سکیں، یہ صارفین کا بھی حق ہے، بزنس فورم آئندہ ان کو اپنے نظام سے واقف کروانے کی تجویز بھی دے۔

کراچی جو ہمیشہ خیر کے کاموں میں آگے رہتا ہے بازی لے جاتا ہے اس کے لیے یہ بات بھی بہت خوش آئند تھی بلکہ یہ ایک خوشخبری تھی اور حیران کن بھی تھی کہ اس دور میں اس وقت ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اپنی ساری آمدنی سارے منافع کو فلسطین کے لیے وقف کر دیا اور اسے فلسطین فنڈ میں دینے کا فیصلہ کر لیا اور لوگوں نے بھی بڑے جوش و خروش سے خریداری کی اور بڑے جذبے کے ساتھ یہ کام کیا۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے برانڈز کی طرح ایس ایم ایز نے بھی اپنے تناسب سے خوب منافع کمایا اور ان کے پاس بھی بہت آرڈر آئے اور آئندہ کے لیے ان کی بڑی ترقی کے امکانات پیدا ہوئے۔

اس نمایش کی جاندار اور شاندار ابتدا اور اسی طرح شاندار اختتام اور لوگوں کی بھرپور شرکت کا تقاضا ہے کہ آئندہ سال بھی اس سے بڑی اور اس سے اور اچھی اور نئے عزم، نئے جذبے کے ساتھ ایسی نمایش پاکستان بزنس فورم منعقد کرے، اور پاکستانی برانڈز کو دنیا بھر میں پھیلائے۔ ابھی تو ابتدا ہے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان بزنس فورم اس نمایش میں کہ پاکستانی ہیں اور اور بہت اور اس کے لیے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ