ویرات کوہلی کی گرس گیل کے اسٹائل سے ڈانس کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ورلڈ کلاس پلیئر ویرات کوہلی کی کنگنم اسٹائل میں ڈانس کی ویڈیو ایک بار پھر وائرل ہوگئی۔
ویرات کوہلی کی انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو 2013 میں چیمپئنز ٹرافی میں فتح کے بعد کی ہے جس میں بھارت نے دھونی کی کپتانی میں ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
2013 میں چیمپئنز ٹرافی کا فائنل برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں ہوا تھا جس میں بھارت نے انگلینڈ کو پانچ رنز سے شکست دی تھی۔
میچ میں بھارت کی تاریخی فتح کے بعد ویرات کوہلی نے اسٹیڈیم میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جیت کا جشن منایا اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں والا گنگنم اسٹائل ڈانس کر کے سب کو حیران کردیا تھا۔
واضح رہے کہ 2013 میں گنگنم اسٹائل ڈانس دنیا بھر میں تیزی سے وائرل ہورہا تھا۔ برمنگھم میں تماشائی ویرات کو نئے روپ میں دیکھ کر حیران ہوئے تھے اور مداحوں نے اُن کے ڈانس کا موازنہ کرس گیل سے کیا تھا۔
ویرات کوہلی فروری 2025 میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کیلیے بھی تیار ہیں اور مداحوں کو امید ہے کہ وہ اس ایونٹ میں بھی شاندار بلے بازی کریں گے۔
بھارتی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کا اپنا پہلا میچ 20 فروری کو بنگلادیش کے خلاف دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی ویرات کوہلی ویرات کو
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔