اسرائیل غزہ پر قبضے کے بعد امریکا کے حوالے کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہےکہ جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کی پٹی اسرائیل کے ذریعے امریکا کے حوالے کردی جائے گی، اس وقت تک فلسطینی اس خطے میں نئے اور جدید گھروں کے ساتھ کہیں زیادہ محفوظ دوبارہ آباد ہو چکے ہوں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دنیا کے بہترین ترقیاتی اداروں کے ساتھ مل کر غزہ کی تعمیرِ نو کرے گا، جس سے یہ خطہ ایک شاندار ترقیاتی ماڈل بن جائے گا، اس عمل میں امریکا کو کسی فوجی کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اس سے خطے میں استحکام آئے گا۔
خیال رہےکہ امریکی صدر کے غزہ پر قبضے کا متنازعہ بیان پر عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے فلسطینیوں کی بےدخلی کی مخالفت کرتے ہوئے دو ریاستی حل پر زور دیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدرمنتخب ہونے کے بعد مسلسل مسلمانوں کے خلاف سازشی بیانات دے رہے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی مذمت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔