Jang News:
2026-07-23@23:42:48 GMT

پاک بحریہ کی نویں کثیر القومی بحری مشق امن کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT

پاک بحریہ کی نویں کثیر القومی بحری مشق امن کا آغاز

— تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام نویں کثیر القومی بحری مشق امن کا آغاز ہو گیا۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق 11 فروری تک جاری رہنے والی مشقوں میں 60 سے زائد ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

 مشق امن 2025ء کے ساتھ پہلی بار’امن ڈائیلاگ‘ کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔

کثیرالقومی بحری مشق امن کا 9واں ایڈیشن 7 سے11 فروری تک ہوگا

ملٹی نیشنل میری ٹائم مشق امن 2025، امن ڈائیلاگ کی میڈیا بریفنگ کراچی میں منعقد ہوئی۔

 امن ڈائیلاگ میں دنیا بھر سے بحری افواج اور کوسٹ گارڈز کے سربراہان شرکت کریں گے۔

یہ ڈائیلاگ عالمی بحری قیادت کو سمندری مسائل پر تبادلۂ خیال کا موقع دے گا۔

مشقوں کا مقصد خطے کا بحری استحکام، مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔

اس موقع پر کمانڈر پاکستان فلیٹ ریئر ایڈمرل عبدالمنیب کا کہنا ہے کہ امن مشق میں شرکت کرنے والے ممالک کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے کہا کہ بحری سلامتی میں بحری افواج کا اہم کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سمندروں میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے جبکہ سمندروں میں دہشتگردی، قزاقی جیسے چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔

کمانڈر پاکستان فلیٹ نےکہا کہ امن مشق دنیا بھر کے ممالک کو خطرات، چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کرکام کی دعوت دیتی ہے۔

ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے مزید کہا کہ رواں سال امن مشق میں پہلی مرتبہ امن ڈائیلاگ کا اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک دوسرے کے اشتراک سے درپیش متفرق معاملات کو بہتر انداز میں ہینڈل کرسکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: امن ڈائیلاگ کہا کہ

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ