ایسی کرپشن شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملی، یو ایس ایڈ کو بند کردو! ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یو ایس ایڈ کو بند کر دینا چاہیے، کیوں کہ اس سرکاری امدادی ادارے کو ختم کرنے کے لیے ان کی پہلے سے ہی بے مثال مہم جاری ہے۔
نجی اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اس سطح پر ہے جو پہلے شاذ و نادر ہی دیکھنے کو کبھی ملی۔
ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل ایپ پر ایک بیان میں لکھا کہ اسے بند کر دو!
امریکی صدر نے اپنے سب سے بڑے عطیہ دہندہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی سربراہی میں جنگی اقدامات کا آغاز کیا ہے تاکہ امریکی حکومت کے بڑے حصے کو کم یا ختم کیا جا سکے۔
سب سے زیادہ توجہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) پر مرکوز ہے، جو دنیا بھر میں امریکی انسانی امداد کی تقسیم کی بنیادی تنظیم ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ہزاروں غیر ملکی ملازمین کو واپس بلا لیا اور غیر ملکی امداد منجمد کردی ہے۔
اس سے ایک روز قبل نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یو ایس ایڈ کے موجودہ 10 ہزار ملازمین کی تعداد کم ہو کر تقریباً 300 ہو جائے گی۔
لیبر یونینز اس ’حملے‘ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہی ہیں، جس میں مسک کی جانب سے پوری حکومت کے وفاقی کارکنوں کو ملازمت چھوڑنے کی پیشکش بھی شامل ہے۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے مقننہ سے گرین سگنل لیے بغیر سرکاری اداروں کو بند کرنا غیر آئینی ہوگا۔
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ محکمہ تعلیم کو بند کرنا چاہتے ہیں۔
امریکا کے موجودہ بجٹ میں عالمی امداد کے لیے 58 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق اگرچہ واشنگٹن دنیا میں سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک ہے، لیکن یہ رقم گزشتہ چوتھائی صدی میں کل حکومتی اخراجات کا 0.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یو ایس ایڈ کو بند کر
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔