بشریٰ بی بی راولپنڈی کے 10مقدمات میں شامل تفتیش ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
بشریٰ بی بی : فوٹو فائل
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی راولپنڈی کے 10مقدمات میں شامل تفتیش ہوگئیں۔
بشریٰ بی بی کے خلاف 26 نومبر کے 31 مقدمات کی تفتیش کیلئے 7 تفتیشی افسران اڈیالہ جیل میں موجود تھے، 6 تفتیشی افسران راولپنڈی اور ایک کا تعلق چکوال سے ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کے وکلاء فیصل ملک، حسنین سنبل ایڈووکیٹ بھی اڈیالہ جیل میں موجود تھے۔
بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی ان کی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے و دیگر چیزیں شامل ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ میرے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے منصوبہ بندی کےتحت ہمارے خلاف کارروائی جاری ہے، کسی منصوبہ بندی، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ میں ملوث نہیں تھی، میرٹ پر تفتیش کرکے حقائق سامنے لائے جائیں، ہمیں انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
بشریٰ بی بی کے بیان ریکارڈ کرواتے وقت بانی پی ٹی آئی بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔