ترک صدر کا صدر مملکت آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کو گاڑی کا تحفہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 فروری2025ء) ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کو ترک ساختہ الیکٹرک کار کا تحفہ دیا گیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ترک الیکٹرک کار خود ڈرائیو کی اور ترک صدر اٴْن کے برابر والی نشست پر بیٹھے۔
(جاری ہے)
ترک صدر نے صدر مملکت کو بھی گاڑی کا تحفہ دیا، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے گاڑی ڈرائیو کی اور رجب طیب اردوان آصفہ بھٹو کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے جبکہ صدر آصف علی زرداری پیچھے والی نشست پر موجود تھے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرک کار کا تحفہ دینے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔ خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان ا?نے سے قبل اپنے دورہ ملائیشیا کے دوران ملائیشیا کے صدر کو بھی ترک ساختہ الیکٹرک کار کا تحفہ دیا تھا۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے ترک صدر کو ساتھ بٹھا کر گاڑی ڈرائیو کی تھی اور اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی دلچسپ گفتگو بھی وائرل ہوئی تھی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اعظم شہباز شریف الیکٹرک کار صدر مملکت کا تحفہ
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں