بانی نے خط میں معاشرے کے خلیج ختم کرنے کی بات کی ہے : بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بانی کے آرمی چیف کو لکھے گئے خط کے حوالے سے کہا کہ عمران خان نے خط میں معاشرے میں موجود خلیج ختم کرنے کی بات کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کی ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں معمول کا احتجاج کیا گیا ، اسمبلی ارکان کو اظہار خیال کا موقع نہیں دیا جا رہا، پاکستان تحریک انصاف جیسے ہمیشہ احتجاج کرتی ہے لیکن آج ہم نے بات کیلئے پوائنٹ آف آرڈر مانگا لیکن ہمیں بولنے نہیں دیا گیا ،یہ حکومت ہر طرح سے ناکام ہو چکی ہے ،یہ لوگ فیصلہ کر لیں کہ جمہوریت چلنی ہے یا نہیں ،ہم نے ہر دفعہ کوشش کی کہ یہ ایوان چلے ، ہم آج شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں کہ ہمیں بولنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا پاکستان تحریک انصاف پھر مجبور ہو گی کہ مسائل کا کوئی اور حل نکالے ، 18 ملین لوگ 2022 میں غربت کی لکیر سے نیچے آئے ہیں، ملکی معیشت ویتنام کی معیشت سے بھی کم تر حالات پر ہے ۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا خط اوپن لیٹر تھا، بانی چیئرمین نے معاشرے میں موجود خلیج ختم کرنے کی بات کی، خان صاحب نے خط لکھے عوام کے مسائل کی طرف توجہ دلائی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا میں تو پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ یہ جعلی پارلیمنٹ ہے ،پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے ،تاریخ میں کبھی بھی آئی ایم ایف کا وفد عدالت میں نہیں گیا ،ترکی میں آرمی چیف کا بہت رول تھا اور اردگان کو عہدے سے ہٹایا لیکن وہاں کی عوام نکلی اور آئین کا ساتھ دیا اور طیب اردگان کو دوبارہ عہدے پر پہنچایا ۔ انہوں نے کہا میں تمام کمیٹیوں سے استعفی دیتا ہوں جن کا حکومت حصہ ہے ،میرا دوست ہے اسپیکر نما " حوالدار " اس کے دفتر میں نہیں کب گیا ،ہمیں اپنی پارلیمنٹ کے باہر اپنا ایوان لگانا چاہئے ، اسد قیصر اسپیکر ہوں ہمارے ممبر سو سے زائد ہیں وہ ہوں اور عوام کو بتائیں کہ یہ اصل نمائندہ جماعت ہے ،میں تحریک انصاف سے بھی کہتا ہوں کہ یہ بھی حکومتی کمیٹیاں چھوڑ دیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز