سابق بھارتی کرکٹر کی بابر اعظم پر تنقید،بابر اعظم 1980 کی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
سابق بھارتی کرکٹر محمد کیف نے بابر اعظم کی سست بیٹنگ پر کڑی تنقید کردی۔چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں پاکستان کی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 60 رنز سے شکست پر بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ بابر اعظم 1980 کی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔321 رنز کے تعاقب میں بابر اعظم نے 71.11 کے اسٹرائیک کے ساتھ 90 گیندوں پر 64 رنز بنائے۔محمد کیف کو بابر اعظم کا کراچی کے بیٹنگ ٹریک پر کھیلنے کا انداز پسند نہیں آیا اور انہوں نے بابر پر تنقید کی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر محمد کیف نے لکھا کہ ’بابر اب بھی 1980 کی دہائی کی کرکٹ کھیل رہے ہیں، پارٹ ٹائم اسپنرز کے خلاف صرف دو باؤنڈری لگائی، یہ جدید کرکٹ میں کام نہیں آتا۔واضح رہے کہ میچ میں تام لیتھم کو سنچری اسکور کرنے پر بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ میچ میں ول ینگ نے سنچری اسکور کی اور گلین فلپس نے بھی برق رفتار نصف سنچری بنائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محمد کیف
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔