پشاور کے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا بدل کر نام عمران خان نیازی اسٹیڈیم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور کے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام بدل کر عمران خان نیاز ی اسٹیڈیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کی سمری منظوری کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو ارسال کردی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ تبدیلی نام کی حتمی منظوری دیں گے۔
وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی سمری کے مطابق ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم پشاور کے تاریخی پارک شاہی باغ کے احاطے میں واقع ہے۔ اس سمری میں ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کے قیام سے لیکر مختلف امور کاذکر کیا گیا ہے۔
سمری کے مندرجات کے مطابق صوبے میں بین الاقوامی معیار کے کھیل کی سہولیات صوبائی یا وفاقی حکومتوں کے ذریعے قائم کی گئیں۔ سیاسی شخصیات اور سابق بین الاقوامی/قومی سطح کے کھلاڑیوں کی خدمات کے اعتراف میں ان کے ناموں سے منسوب کرنیکا فیصلہ کیا گیا۔
خیبرپختونخوا کا لالہ ایوب ہاکی اسٹیڈیم اور عبدالقیوم اسٹیڈیم پشاور اسپورٹس کمپلیکس کا نام بھی اہم شخصیات سے منسوب ہے۔
اس کے علاوہ عبدالولی خان اسپورٹس کمپلیکس چارسدہ اور اوزی محب ہاکی اسٹیڈیم بنوں بھی اہم شخصیات کے ناموں سے منسوب ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔