آئی ایم ایف کی کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز، حکومت گریزاں
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف ) کے درمیان ایک ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کے نئے قرضے کیلیے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
اجلاس میں حکومتی عہدیداروں نے کاربن لیوی عائد کی تجویز کی حمایت نہیں،آئی ایم ایف 1 بلین ڈالر کے قرض کی نئی سہولت کے تحت اپنی شرائط کے تحت نئی توانائی کی گاڑیوں کے فروغ کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے کاربن لیوی متعارف کرانا چاہتا ہے۔
آئی ایم ایف ٹیم ایک نئے سیٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے اسلام آؓباد میں ہے،ایک اندازے کے مطابق پاکستان ایک بلین ڈالر موسمیاتی قرضے سے فائدہ اٹھائے گا۔
یہ پاکستان کا 26 واں آئی ایم ایف پروگرام ہوگا لیکن اس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کے لیے روایتی بیل آؤٹ سے مختلف ہوگا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات ورلڈ بینک کی کنٹری کلائمیٹ اینڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ کی روشنی میں ہو رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ موافق حالات میں سے ایک کاربن لیوی کا نفاذ ہو سکتا ہے، جسے قرض دہندگان چاہتے ہیں کہ پاکستان روایتی فوسل فیول پر مبنی گاڑیوں پر عائد کرے۔ حکومت کے تخمینے کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کے کل اخراج کا 10% ٹرانسپورٹ سیکٹر سے نکلتا ہے اور گاڑیوں کے صاف ستھرا ذرائع میں منتقل ہونے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
وزارت صنعت پانچ سالہ نیو انرجی وہیکلز پالیسی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے ۔ وزارت کے ابتدائی تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کو کمبشن انجن کاروں اور موٹر سائیکلوں کو صاف ایندھن پر مبنی انجنوں سے تبدیل کرنا ہے تو اسے 2030 تک کم از کم 155 ارب روپے کی اضافی فنڈنگ کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان کا تقریباً 80 فیصد درآمد شدہ تیل ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال ہوتا ہے اور صاف توانائی والی گاڑیوں میں تبدیلی سے زرمبادلہ کے ذخائر کو بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ تبدیلی کافی مہنگی ہے، جس میں گاڑیوں کی قیمت کو کم کرنے اور نئے انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی کی ضرورت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق روایتی دو پہیوں والی موٹر سائیکلیں نئی توانائی سے چلنے والے دو پہیوں کے مقابلے میں 100% تک سستی ہیں۔ تھری وہیلر کی نئی انرجی گاڑی 123 فیصد تک مہنگی ہو گی۔ منصوبہ یہ ہے کہ 2030 تک دو اور تین پہیوں کی نئی خریداریوں کا 90 فیصد تک قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر مبنی ہونا چاہیے۔
ذرائع نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی پر مبنی چار پہیوں والی کاریں کمبشن انجنوں کے مقابلے میں 65 فیصد مہنگی ہونے کا تخمینہ ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ 2030 تک نئی خرید کا کم از کم 30 فیصد نئی ٹیکنالوجیز پر مبنی ہو۔ وزارت صنعت متعدد اقدامات پر سوچ بچار کر رہی ہے، جس میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی صفر، سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی اور بیٹری کے سائز سے قطع نظر نئی انرجی گاڑیوں کی خریداری پر صفر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح شامل ہیں،محصولات میں ہونے والے نقصان کو نئے کاربن لیوی کے ذریعے پورا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
مزید برآں وزارت توانائی نے آئی ایم ایف کو نئے انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا ۔ جہاں تک کاربن لیوی کا تعلق ہے تو حکومت نے اس معاملے پر اپنا حتمی ذہن نہیں بنایا جبکہ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس لگانے سے متعلق آئی ایم ایف سے کوئی بھی وعدہ وزیراعظم شہباز شریف کی رضامندی کے بعد دیا جائے گا۔
یاد رہے کلائمیٹ فنانسنگ کے نئے قرضے پر مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد پیر کو پاکستان پہنچا تھا ۔ وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف وفد 28 فروری تک پاکستان میں قیام کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کاربن لیوی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔