ویب ڈیسک: 26 نومبر کو احتجاج کے تناظر میں گرفتار اوررہائی پانے والے 122 پی ٹی آئی ورکرز نے دوبارہ ایسا جرم نہ کرنے کے بیانات حلفی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیے۔

 26 نومبر احتجاج کے تناظر میں گرفتار 122 پی ٹی آئی ورکرز کی ضمانتوں کے بعد رہائی کے معاملے میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے عدالتی حکم پر بیان حلفی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دیئے۔ 

سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔منگل 25 فروری, 2025

قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے ضمانتیں مشروط طور پر منظور کی تھیں۔

وکیل مرتضیٰ حسن طوری نے کارکنان کی جانب سے بیان حلفی جمع کروائے جس میں کہا گیا کہ بطور وکیل یقین دہانی کراتا ہوں کہ درخواست گزار آئندہ ایسی کوئی سرگرمی نہیں کریں گے،  درخواست گزاروں پر ایف آئی آرز میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں درخواست گزاروں نے کوئی جرم نہیں کیا۔

واضح رہے کہ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے ضمانتیں منظور کی تھیں اور تمام ورکرز کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم بیان حلفی بھی طلب کیا تھا۔

آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -منگل  25 فروری, 2025

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی