UrduPoint:
2026-07-24@15:17:39 GMT

جرمنی میں رواں سال کے پانچویں سیزن ’کارنیوال‘ کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

جرمنی میں رواں سال کے پانچویں سیزن ’کارنیوال‘ کا آغاز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 فروری 2025ء) جرمنی میں جمعرات ستائیس فروری سے اس سال کے پانچویں سیزن کارنیوال کی رنگا رنگ تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کارنیوال تہوار کی مرکزی تقریبات کا گڑھ مغربی جرمن صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا ہے۔ جمعرات سے اس صوبے کے مختلف شہروں کے اسکولوں میں تعطیلات شروع ہو گئی ہیں، جو آئندہ ہفتے منگل تک جار رہیں گی۔

صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈوزلڈورف اور کارنیوال کے تہوار لیے سب سے پُرکشش شہر کولون کی طرف سب سے زیادہ کارنیوال شائقین کا ہجوم نظر آ رہا ہے۔ جمعرات کو ان دونوں شہروں میں سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔

قدیم روایت

کارنیوال کی پرانی روایت کے مطابق رائن لینڈ کے علاقے میں وائبر فاسٹ ناخت یا ''اولڈ میڈز ڈے‘‘ خاص طور سے خواتین کا تہوار ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اس دن خواتین مردوں کی اجارہ داری کے خلاف اور ان کی طاقت کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی علامت کے طور پر مردوں کی نک ٹائی کاٹ دیتی ہیں۔ اس دن کو خواتین کی برتری اور اجارہ داری کا دن سمجھا جاتا ہے۔

بیلجیم: کارنیوال کے شرکا پر کار چڑھ دوڑنے سے ہلاکتیں چھ ہو گئیں

روز منڈے

آنے والے ویک اینڈ پر ہر محلے اور قصبے میں کارنیوال جلوس نکلتا ہے اور روایت کا نقطہ عروج روز منڈے یا گلابی پیر ہوتا ہے۔

اس روز کارنیوال کے جلوسوں کا انعقاد بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ کارنیوال کے میوزک گروپس اور بینڈز جگہ جگہ پریڈ کرتے ہیں۔ کارنیوال کے جلوس بڑے بڑے ٹرکوں پر رنگا رنگ لباسوں میں ملبوس افراد پر مشتمل ہوتے ہیں۔

یہ رنگا رنگ طریقے سے سجے ہوئے اپنے ٹرکوں کے قافلے کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اور پورے رستے سڑک کے دونوں طرف شائقین کے ہجوم پر چاکلیٹ، ٹافیوں، مشروبات اور دیگر اشیاسے خوردنی کی بارش کرتے چلے جاتے ہیں۔

ان اشیا کے علاوہ دیگر چھوٹے چھوٹے تحائف ہجوم پر نچھاور کیے جاتے ہیں اور شائقین ان چیزوں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ موسیقی، رنگ، ترنگ اور بہت کچھ اس تہوار کا حصہ ہوتا ہے۔

طنز و مزاح کا عنصر

کارنیوال کے تہوار کا ایک مرکزی پہلو ''پولیٹکل سٹائر‘‘ یا سیاسی طنز و مزاح پر مبنی چھوٹے چھوٹے اسکٹس ہوتے ہیں جنہیں مسخرے پیش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر شہر کولون میں ایک مرکزی علاقے میں بہت بڑے کارنیوال جلوسوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان جلوسوں میں بہت بڑے اور اونچے ٹرکوں پر سوار مسخرے کسی سیاسی شخصیت کا روپ دھار کر اُس میں کسی طنز کا پہلو شامل کر کے لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ مسخرے سیاستدانوں، حکمرانوں، دیگر سیاسی اور مذہبی شخصیات کے علاوہ معروف مفکر، موسیقار یا اداکاروں کا حلیہ بنا کر اُن کی نقلیں اتارتے ہیں اور طنزیہ جملے کستے ہیں۔

کارنیوال کے جلوس پر کار چڑھا دینے کا واقعہ، متعدد افراد زخمی

شہر کولون میں اس سال سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش

اس بار کارنیوال کی تقریبات کے خلاف سوشل میڈیا پر دھمکیوں کی اطلاعات بھی ہیں۔ وفاقی جرمن دفتر برائے انسداد جرائم BKA نے ان سوشل میڈیا پوسٹوں کو ''پراپیگنڈا پبلیکیشنز‘‘ کے طور پر استعمال کیا جانے والا مواد قرار دیا ہے۔

تاہم وفاقی فوجداری پولیس نے کہا ہے کہ کوئی خاص خطرہ نہیں ہے۔ اُدھر شہر کولون کی پولیس نے سکیورٹی کی صورتحال کو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ ''کشیدہ‘‘ قرار دیا ہے اور اس کے تحت شہر میں سکیورٹی کے اقدامات سخت تر کر دیے گئے ہیں۔ 15 سو پولیس افسران، پبلک آرڈر آفس کے 300 سو اضافی ورکرز اور 12 سو کارکنوں پر مشتمل پرائیویٹ سکیورٹی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس نے جگہ جگہ ''ڈرائیو اوور‘‘ رکاوٹیں قائم کی ہیں تاکہ کاروں سے کیے جانے والے حملوں کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ پولیس ہجوم یا جلوس میں شامل افراد کی چاقو چیکننگ بھی کرے گی۔ سڑکوں پر عام دنوں کے مقابلے میں یولیس کی کافی زیادہ تعداد نظر آ رہی ہے۔

ک م/ ش ر(ڈی پی اے)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شہر کولون ہوتا ہے

پڑھیں:

افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سلور جوبلی پوری تنظیم کیلئے باعث فخر ہے، کرغزستان نےاجلاس کی بہترین میزبانی کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او اب معیشت، ثقافت اور امن کا جامع فورم بن چکی ہے، ایس سی او خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی و تعمیری سفارتکاری کی بنیاد ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کے شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے، افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے، 560 پاکستانی شہید ہوئے، افغان طالبان دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے پر زور دے۔

اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے، مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔ انہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کی دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی روابط اور خطے و عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہماری بھرپور سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ اسلام آباد ایم او یو اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تنازع کے مستقل، پُرامن اور دیرپا حل کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان عناصر کے خلاف ہوشیار رہنے پر زور دیا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور اب تک ہونے والی پیش رفت کو الٹنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک
  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز