جو ہمارے خیرخواہ نہیں وہ ہمیں ڈیفالٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جو ہمارے خیرخواہ نہیں وہ ہمیں ڈیفالٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ ہم اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہیں۔
اسلام آباد مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے یکم جنوری 1999 کو فیصلہ کیا کہ کارپوریٹ لا اتھارٹی کو سیکیورٹی اینڈ ایکسینج کارپوریشن آف پاکستان میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں مضبوط کنزیومر پروٹیکشن سوسائٹیز نہیں ہیں اس لیے سی سی پی کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہے۔ ہمیں اس بات سے الجھن ہوتی تھی کہ اچھے فیصلے ہونے کے باوجود مقدمات بنتے تھے اور التوا کا شکار ہوجاتے تھے، مسابقتی کمیشن صارفین کے حقوق کا ذمہ دار ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سی سی پی کا ڈائمنڈ پینٹ کو گمراہ کن مارکیٹنگ پر 50 لاکھ روپے جرمانہ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس جو کاروباری شخصیات آتے تھے وہ کاروبار بیچ کر جانا چاہتے تھے، ہم نے انہیں سمجھایا کہ پاکستان کو اللہ نے کھربوں روپے کے قیمتی وسائل سے نوازا ہے، ملک میں صرف انتظامی مسائل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میرا یقین ہے کہ جلد ہی پاکستان اقوام عالم میں اپنی جائز جگہ بنائے گی۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ 2017 میں ہم دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بن چکے تھے، ہم جی۔20 میں شامل ہونے کے قریب تھے، اور آج بھی یہی ہماری منزل ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار سے سعودی سفیر کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہی تھی، جو ہمارے خیرخواہ نہیں وہ ہمیں ڈیفالٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ ہم اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہیں۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کہا جارہا تھا ہم سفارتی طور پر اکیلا رہ چکے ہیں لیکن ہماری حکومت نے 27 سال بعد پاکستان میں ایس سی او کی صورت میں بین الاقوامی ایونٹ کا انعقاد کیا، اس کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی بھی کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار سی سی پی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار سی سی پی اسحاق ڈار نے کہا کہ سی سی پی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔