کراچی میں ایک اور شہری ڈکیتی مزاحمت پر قتل، رواں سال کی تعداد 17 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے ڈسٹرکٹ ملیر میں سفاک ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک اور شہری زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت واردات میں ملوث ایک ڈاکو سخت جدوجہد کے بعد پکڑلیا جو عوامی تشدد کے باعث دوران علاج ہلاک ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں ڈاکوؤں کا راج جاری ہے اور شاہ لطیف میں مسلسل دوسرے روز مسلح ڈکیتوں نے مزاحمت پر ایک اور شہری کو قتل کردیا۔
شاہ لطیف میں ڈکیتی کی وارداتیں بڑھنے پر علاقہ مکین مشتعل ہوئے اور انہوں نے پولیس حکام سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈکیت کو مشتعل عوام نے تشدد کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا جو دوران علاج ہلاک ہو کر اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا، رواں سال کے دوران ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق شہریوں کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے مرغی خانہ گلستان سوسائٹی میں موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر 35 سالہ بابر کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا۔ مقتول کو سینے پر لگنے والی جان لیوا ثابت ہوئی جبکہ واردات کے بعد موٹر سائیکل سوار ڈاکو فرار ہو رہے تھے کہ اس دوران موقع پر موجود عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت سخت جدوجہد کے بعد ایک ڈاکو کو پکڑلیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دا اور اسے انتہائی تشویشناک حالت میں شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کے حوالے کر دیا۔
بعد ازاں زخمی ڈکیت کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج ہلاک ہوگیا جبکہ اس کا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔ مکینوں کے مطابق مقتول بابر سوئمنگ پول کا مالک تھا جو کہ سیزن نہ ہونے کی وجہ سے بند تھا اور اسی عمارت کی پہلی منزل پر کولڈ ڈرنکس کا ڈسٹری بیوٹر اور اسٹیٹ ایجنسی کا دفتر بنایا ہوا تھا۔
مقتول بابر گلستان سوسائٹی کا رہائشی اور 3 بچوں کا باپ تھا جس میں 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔
شاہ لطیف ٹاؤن میں 2 روز کے دوران 2 شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے محروم کر دیئے گئے جس میں منگل کو شاہ لطیف ٹاؤن قائد آباد ریڈیو پاکستان مچھلی مارکیٹ کے قریب ڈاکوؤں نے مقامی گارمنٹس فیکٹری کے ملازم عمران کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
ڈسٹرکٹ ملیر کے تھانے شاہ لطیف ٹاؤن میں پے در پے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 2 شہریوں کے جان سے جانے پر علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور ان کی جانب سے پولیس کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد مقتول کی لاش ورثا کے حوالے کر دی جبکہ اس حوالے سے پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
واقعہ میں عوام کے تشدد سے زخمی ہو کر دوران علاج ہلاک ہونے والے ڈاکو کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی تاہم پولیس تلاش ایپ اور بائیو میٹرک سسٹم کی مدد سے اس کی شناخت کے حوالے سے کوششیں کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دوران علاج ہلاک ہو ڈاکوو ں کی فائرنگ کے دوران کا نشانہ کے بعد
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔