ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹنے والا ٹرانسپورٹر پولیس سے بھی لُٹ گیا، سنگین نتائج کی دھمکیاں
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹنے والا ٹرانسپورٹر رپورٹ درج کرانے گیا تو پولیس کے ہاتھوں بھی لُٹ گیا جب کہ اہل کاروں نے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
نارتھ کراچی سیکٹر فائیو اے ون کے رہائشی ٹرانسپورٹر کو گزشتہ ماہ ڈاکوؤں نے لوٹا تھا، جس پر وہ تھانے میں رپورٹ درج کرانے گیا تو خواجہ اجمیر نگری تھانے کی پولیس نے لوٹ لیا اور سنگین تنائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
ٹرانسپورٹر نے اعلیٰ پولیس حکام سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کو انصاف دلانے اور محافظوں کے قہر سے بچانے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔
خواجہ اجمیر نگری تھانے کی حدود سیکٹر فائیو اے ون مکان نمبر ایل 752 کے رہائشی دانش ولد عبدالغفار نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کا ان کا خاندانی کام ہے، وہ خود اور اس کا بڑا بھائی خرم بھی ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔
متاثرہ شہری نے بتایا کہ 27 فروری 2025ء کو رات تقریباً 2 بجے موٹرسائیکل سوار 4 مسلح ڈاکوؤں نے اسے گھر کی دہلیز پر لوٹ لیا تھا۔ ملزمان 65 ہزار روپے سے زائد کی نقدی ، 2قیمتی موبائل فونز ، اے ٹی ایم کارڈ ، گاڑیوں کے اصلی کاغذات لوٹ کر فرار ہو گئے تھے، جس کی اطلاع فوری طور پر مددگار 15 پولیس کو دی اور پھر میں اور میرا بھائی خواجہ اجمیر نگری تھانے مقدمہ درج کرانے گئے۔
شہری نے بتایا کہ خواجہ اجمیر نگری تھانے میں ڈیوٹی افسر اور ہیڈ محرر جاوید نے کہا کہ فوری طورپر مقدمہ درج نہیں کر سکتے، فی الحال درخواست جمع کرا دو۔ 2 دن بعد مقدمہ درج کرانے کے لیے آجانا۔ دانش نے بتایا کہ اس نے درخواست تھانے میں ریسیو کروائی اور واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس ( فوکل پرسن حسنین ) کو فراہم کر دی۔
2 دن بعد جب وہ مقدمہ درج کرانے دوبارہ تھانے گیا تو 3گھنٹے سے زائد تھانے میں بٹھا کر ٹائم برباد کیا گیا اور ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ 4 مارچ 2025 کو رات تقریباً سوا 8 بجے میں اپنے شو روم سے گھر آرہا تھا کہ گھر نزدیک خورشید بیگم پارک کے قریب 3موٹرسائیکلوں پر سوار 6 اہلکار میرے پاس آئے۔ انہوں نے میرا گریبان پکڑ لیا اور میری چیکنگ شروع کر دی۔
شہری نے بتایا کہ میرے پاس کاروبار کی رقم 78 ہزار روپے اور لائسنس یافتہ پستول نکال کر میری ویڈیو بنائی جب کہ اس موقع پر عوام کا رش بھی لگ گیا۔ اسی دوران میں نے فون کر کے اپنے بڑے بھائی کو گھر سے بلا لیا۔ جب میرا بھائی آیا تو پولیس والوں نے اس سے کہا کہ اس نے ہم پر چیمبر مارا ہے، تاہم وہاں موجود لوگ جو واقعے کی اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنا رہے تھے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ پولیس والے جھوٹ بول رہے ہیں جب کہ علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی موجود ہے۔
عوام کا رش دیکھ کر پولیس والے گھبرا گئے اور یہ بول کر مجھے اپنی موٹرسائیکل پر زبردستی بٹھا لیا کہ تو نے ایس ایچ او غلام یاسین کی سوشل میڈیا پر خبریں چلائی ہیں، اب دیکھ ہم تیرا کیا حشر کرتے ہیں۔ اہلکار وہاں سے نہ صرف مجھے مارتے ہوئے تھانے لے گئے بلکہ میری والدہ اور میرے مرحوم والد کو ماں بہن کی غلیظ گالیاں بھی دیتے رہے۔
متاثرہ شہری نے بتایا کہ تھانے لے جا کر مجھے ایس ایچ او خواجہ اجمیرنگری غلام یاسین کے سامنے مجرموں کی طرح پیش کیا گیا۔ ایس ایچ او نے مجھ سے کہا کہ تم میرے ٹارگٹ پر ہو، میں تمہیں ایسے کیس میں فٹ کروں گا کہ ساری زندگی جیل میں گزار دو گے۔
دانش نے بتایا کہ اسے سرعام تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تھانے لے جانے والوں میں سے 3 اہلکاروں کے نام وردی پر لگے بیج پر اسد، عدیل اور دانش درج تھے جب کہ دیگر 3کی وردی پر نام نہیں لکھے تھے۔
دانش اور اس کی اہلیہ نے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعلیٰ سندھ ، گورنر سندھ ، وزیر داخلہ سندھ ، آئی جی سندھ ، ایدیشنل آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ویسٹ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ پولیس کی وردی میں ملبوس ڈاکو صفت افسران و اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ان کو نہ صرف محکمہ پولیس سے برطرف کیا جائے بلکہ ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ شہریوں کے تحفظ پر مامور پولیس آئندہ اس طرح کے گھناؤنے جرم کرنے سے پہلے اپنے انجام کے بارے میں سوچ لیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواجہ اجمیر نگری تھانے شہری نے بتایا کہ تھانے میں
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین