نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں تباہی مسلم دنیا کی جانب سے  فوری اقدامات کی متقاضی ہے۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آج غزہ  تاریک ترین دور سے گزر رہا ہے، عورتوں اور بچوں سمیت 48000 معصوم فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، غزہ کا تمام بنیادی ڈھانچہ، سکول، ہسپتال، مکان، عبادت گاہیں، تجارتی مراکز ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مسلم دنیا کی جانب سے  فوری اقدامات کا طلب گار ہے، 15 ماہ کی تباہ کاریوں کے بعد مصر اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی کاوش امید کی کرن ہے، پاکستان اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں پائے جانے والی غیر یقینی صورتحال مستقل امن سے ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جدہ میں اسلامی تعاؤن تنظیم کا ہنگامی اجلاس، غزہ کی بحالی سے متعلق مصر کے منصوبے کی حمایت

انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد ایک بات پھر روکی جا چکی ہے، رمضان المبارک میں اس طرح کا ظلم شدید قابل مذمت ہے، امداد کی ترسیل کو روکنا جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ  کی عوام کی بقا امداد کی ترسیل سے ہی ممکن ہے، امداد کی ترسیل کے لیے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے، جنگ کے دوبارہ آغاز کی اسرائیلی خواہش کو متحد ہو کر روکنا ہو گا۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغربی پٹی پر اسرائیلی اقدامات جاری رہنے تک امن کا قیام ممکن نہیں، اسرائیلی اقدامات فلسطینی عوام کو ان کے اپنے علاقے سے مکمل ختم کے لیے ہیں جو کہ نسل کشی ہے، مقبوضہ فلسطینی علاقے میں عالمی قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں جسے فوری روکنا اہم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسلم اُمّہ اس بات کو واضح کرے کہ فلسطینیوں کو غزہ یا مغربی پٹی سے بے گھر کرنا نسل کشی ہے، اسلامی تعاون تنظیم ہر اس تجویز کو رد کر دے جو فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے لیے ہو اور کسی بھی ایسے ایجنڈے کے خلاف متحد ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ کی تعمیر نو سے متعلق مصر کی تجویز پر پاکستان کا خیر مقدم

انہوں نے سعودی عرب میں فلسطینی ریاست قائم کرنے کی اسرائیلی وزیراعظم کی اشتعال انگیز تجویز کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا مسلم اُمّہ کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، ہم اپنے الفاظ نہیں بلکہ اپنے اقدامات سے پہنچانے جائیں گے، فلسطینی عوام ہمدردی کے بیانات نہیں بلکہ مظبوط اقدامات چاہتے ہیں۔

محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے اجلاس میں تجاویز پیش کیں کہ 3 نکاتی جنگ بندی معاہدے پر فوری عملدرآمد کیا جائے، جنگ بندی کا مستقل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، انسانی امداد کی ترسیل اور تعمیر نو کا جامع منصوبہ گوری یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل روکنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت کردی

انہوں نے تجویز پیش کی کہ مغربی پٹی میں اسرائیلی جارحیت فوری ختم کی جائے، فلسطینیوں کو فوری اور بغیر رکاوٹ انسانی امداد یقینی بنائی جائے اور فلسطینیوں کو جبری بے گھر کرنا سرخ لکیر گردانا جائے۔

انہوں نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل خصوصی اجلاس کی میزبانی کرنے پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد سمیت تمام قیادت کے شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا جمعہ کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ غزہ منصوبے کے متبادل عرب تجویز کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے غزہ سے متعلق مصر کے پیش کیے گئے اس تجویز کی حمایت کی، جسے بعدازاں، عرب لیگ نے بھی منظور کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امداد کی ترسیل فلسطینیوں کو کی جانب سے اسحاق ڈار انہوں نے کا کہنا بے گھر کے لیے

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم