پنجاب میں اتحادی حکومت کے معاملات پر پی پی اور ن لیگ کی مفاہمتی کمیٹی کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
پنجاب میں اتحادی حکومت کے معاملات پر پی پی اور ن لیگ کی مفاہمتی کمیٹی کا اجلاس طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 12 March, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی تحفظات دور کرنے کیلئے دونوں جماعتوں کی کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطے بحال ہونے کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اتحادی حکومت کے معاملات پر کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مفاہمتی کمیٹی کا اجلاس 15 مارچ بروز ہفتہ شام 4 بجے گورنر ہاس لاہور میں منعقد ہوگا، اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شکوے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔پیپلزپارٹی نے صوبائی اتھارٹیز میں نامزدگیوں کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ ترقیاتی فنڈز، بیورو کریسی میں تبادلے پیپلز پارٹی کے مطالبات میں شامل ہیں۔
اجلاس کی میزبانی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کریں گے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی، ندیم افضل چن اور قاسم گیلانی کی شرکت متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ، سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق بھی اجلاس میں شریک ہوںگے۔
اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پی پی وفد نے شہبازشریف سے ملاقات میں کی تھی جس میں وزیراعظم نے جلد اعلی سطح اجلاس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔پیپلز پارٹی کے وفد میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، راجہ پرویز اشرف، گورنر پنجاب سلیم حیدر، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی اور دیگر رہنما شامل تھے۔ملاقات میں پنجاب میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان شراکت اقتدار سے متعلق بھی معاملات زیر غور آئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کمیٹی کا اجلاس طلب اتحادی حکومت کے پیپلز پارٹی کے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔