اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مارچ ۔2025 ) پاکستان کے مشرقی شہر لاہور میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کی طرف ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے ایک پائلٹ الیکٹرک بس سروس کے منصوبے کا آغاز کیا جس کا بہت انتظار تھاابتدائی طور پر 27 بسوں کے ایک بیڑے نے لاہور ریلوے سٹیشن سے گرین ٹاﺅن کے جنوبی علاقے تک سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا ہے اور میٹرو پولس کے گنجان آباد علاقوں سے گزرنا شروع کر دیا ہے یہ دھواں کے اخراج کو کم کرنے کی شروعات ہے جو لاہور میں فضائی آلودگی میں کردار ادا کر رہی ہے.

(جاری ہے)

پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران علی نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ اسی طرح کی سروس جلد ہی دوسرے شہروں میں بھی شروع کی جائے گی سردیوں میں، لاہور 2016 کے بعد سے بدترین سموگ کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور زیادہ تر ان دنوں ہندوستانی دارالحکومت کے ساتھ سب سے زیادہ آلودہ شہر کے طور پر شمار ہوتا ہے . عمران علی نے کہا کہ ای وہیکلز کے متعارف ہونے سے نہ صرف فوسل فیول کے درآمدی بل میں کمی آئے گی بلکہ گاڑیوں کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی جن کا حصہ 43 فیصد کی حیران کن سطح پر لگایا گیا تھا توسیعی منصوبے کے مطابق فور وہیلر اور تھری وہیلر کو پبلک ٹرانسپورٹ سے تبدیل کرنے کی حکومت کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر اس سال اگست تک مزید 500 ای بسیں شامل کی جائیں گی ای بس سروس کے آغاز سے پاکستان ان ممالک کے کلب میں شامل ہو گیا ہے جو اپنی ڈیزل سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک گاڑیوں سے بدل رہے ہیں بیجنگ اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر 500,000 سے زیادہ الیکٹرک بسوں کے ساتھ چین اس سلسلے میں سرفہرست ہے پڑوسی ملک بھارت میں، نئی دہلی سمیت بیشتر شہری مراکز میں برقی بسیں تیزی سے فوسل فیول گاڑیوں کی جگہ لے رہی ہیں نئی متعارف کرائی گئی ای بسوں میں بیٹری کی گنجائش 350کلو واٹ ہے چارجر کو مکمل چارج کرنے کے لیے تین گھنٹے درکار ہوتے ہیں جب کہ سنگل ڈی سی فاسٹ چارجر ایک بس کو صرف آدھے گھنٹے میں چارج کر سکتا ہے 300 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ یہ بسیں اپنے 250 کلومیٹر کے راستوں کو طے کر سکتی ہیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے علاوہ سندھ نے بھی چار سالوں کے دوران 8,000 ای بسیں پیپلز بس سروس کے بیڑے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے پہلے مرحلے میں رواں سال کے دوران 1500 بسیں متعارف کرائی جائیں گی ماہرین ماحولیات نے ای بسوں کے تعارف کو سموگ سے نمٹنے کی طرف ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے تاہم وہ ماحولیاتی انحطاط سے لڑنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر تجویز کرتے ہیں ای بسوں کا اجرا ایک خوش آئند قدم ہے لیکن حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ گاڑیوں میں صرف یورو 4 وضاحتی پیٹرولیم مصنوعات استعمال کی جائیں.

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ ٹریفک جام سے بچنے کے لیے حکومت کو سڑکوں کے حالات کو بھی بہتر کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ لاہوریوں کو اپنی کاریں اور موٹر سائیکلیں استعمال کرنے کی بجائے ماس ٹرانزٹ سسٹم کے ذریعے سفر کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے. انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر گاڑیاں جتنی کم ہوں گی ماحول کو صاف رکھنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے خراب ہوا کے معیار میں حصہ ڈالنے والے دیگر تمام عوامل بشمول تعمیراتی سرگرمیاں، صنعتی اخراج اور اینٹوں کے بھٹوں کو کنٹرول میں رکھا جانا چاہیے صرف ایک عنصر کو نشانہ بنانے سے فضائی آلودگی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ ای بس سروس متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے بھی کوششیں کی جانی چاہئیں تاکہ کاروں اور موٹر سائیکلوں سمیت ذاتی گاڑیاں اخراج سے پاک رہیں انہوں نے کہا کہ ہم معاشرے کے ہر طبقے کے فعال کردار سے فضائی آلودگی کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں کیونکہ حکومت اکیلے حیرت انگیز کام نہیں کر سکتی.


ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فضائی آلودگی نے کہا کہ کرنے کی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔ محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
  • نواز شریف کا کیا گیا وعدہ پورا، 10 جدید الیکٹرک بسوں کا تحفہ آزاد کشمیر روانہ
  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا