قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس،آرمی چیف نے شرکا کو 50منٹ بریفنگ دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس آرمی چیف نے شرکا کو 50منٹ بریفنگ دی۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے،آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے کمیٹی شرکا کو بریفنگ دی۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے 50منٹ اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے 30منٹ بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے ملکی داخلی و خارجی سکیورٹی سے متعلق صورتحال پر بریفنگ دی،شرکا کو سکرین اور سلائیڈرز کی مدد سے اہم شواہد کیساتھ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
کل آپ نے کہا تھا کہ سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں جائیں گے، صحافی کے سوال پر بیرسٹر گوہر کا جواب آ گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بریفنگ دی ا رمی چیف شرکا کو
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔