پی ٹی آئی کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ انتہائی افسوس ناک ہے، سپریم کورٹ بار
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
سٹی42: اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپوزیشن کی جانب سے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی اجلاس کے بائیکاٹ کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔
قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے انتہائی اہم اجلاس میں پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے بائی کاٹ کرنے پر سپریم کورٹ بار نے تحریری بیان جاری کیا ہے جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرا اجلاس ہوا، یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے اس اہم اجلاس کا بائیکاٹ کیا، اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ ان کے سیاسی ایجنڈے کو قومی مفاد پر ترجیح دینا ہے۔
جعفر ایکسپریس آپریشن میں جہنم واصل کیے جانے والے دہشتگردوں کی لاشوں کی تصاویر سامنے آگئیں
سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اگر اپوزیشن سمجھتی ہے ان کی شکایات درست ہیں تو انہیں پارلیمانی فورم کے اندر ان کا ازالہ کرنا چاہیے، ملک امن و امان کے مسائل کے پیش نظر قومی اتفاق رائے کو فروغ دینا ضروری ہے، دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں تمام اسٹیک ہولڈرز، سیاسی جماعتوں اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو متحد ہونا ہوگا۔
سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اپوزیشن نے دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کے اظہار کے اس اہم موقع پر سیاسی وجوہات پر بائیکاٹ کیا، دہشت گردی سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے، اپوزیشن کو فوری طور پر اپنے اقدامات کا از سر نو جائزہ لینے اور اس ملک کے دشمنوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے، اپوزیشن سمیت کسی کو اپنے غیر معقول اقدامات سے دہشتگردوں کو کوئی موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے۔
دہشتگردی کیخلاف قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس؛ آرمی چیف کی پچاس منٹ کی تفصیلی بریفنگ
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ بار قومی سلامتی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔