مولانا فضل الرحمان کی امن و امان قائم کرنے کیلئے مل بیٹھ کر تجاویز تیار کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
سٹی 42: سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی اجلاس سے اظہار خیال کیا
مولانا فضل الرحمان نے کے پی کے میں امن و امان کی بدترین صورتحال سے ایوان کو اگاہ کیا۔مولانا فضل الرحمان نے امن و امان قائم کرنے کیلئے مل بیٹھ کر تجاویز تیار کرنے کی تجویز دی ۔مولانا فضل الرحمان نے علماء کرام کو ٹارگٹ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان کی صورتحال سے بھی ایوان میں تشویش کا اظہار کیا۔
پی ٹی آئی کو اجلاس میں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی، مولانا فضل الرحمان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کرنے کی
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزراء نے بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات کی، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور مجموعی انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر مملکت نے بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بلوچستان کی ہمہ جہت ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ آصف علی زرداری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ملاقات میں صوبائی وزیر آبپاشی صادق عمرانی، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیر صحت میر بخت کاکڑ، وزیر لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیر صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیر محنت غلام رسول عمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری بھی شریک تھے۔