عید الفطر کے چاند کی پیدائش کی تاریخ اور وقت بتا دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مارچ 2025ء) عید الفطر کے چاند کی پیدائش کی تاریخ اور وقت بتا دیے گئے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں عید الفطر کی آمد میں 2 ہفتوں سے بھی کم وقت باقی کر گیا، پاکستان میں شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 30 مارچ کو ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے ناصرف عید الفطر کی ممکنہ تاریخ بلکہ شوال کے چاند کی پیدائش سے متعلق بھی پیشن گوئی کردی۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق ماہ شوال کےچاند کی پیدائش 29مارچ کو3 بجکر58 منٹ پرہوگی جبکہ 30 مارچ اور29 رمضان کورویت ہلال کمیٹی کااجلاس ہوگا۔ اجلاس کے وقت چاند کی عمر27 گھنٹے ہوگی، ماہ شوال کا چاند بآسانی دیکھاجاسکےگا، غروب آفتاب اورغروب قمر کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے کا فرق ہے، چاند ایک گھنٹے تک دیکھا جا سکے گا۔(جاری ہے)
ترجمان کا مزید کہنا تھا 30 مارچ کوچاند نظرآنے کی توقع ہے، یکم شوال 31 مارچ کوہوگی، ماہ شوال کےچاند کاحتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
دوسری جانب مصر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار آسٹرونومیکل اینڈ جیو فزیکل ریسرچ نے پیشگوئی کی ہے کہ دنیا کے تقریباً 30 شہروں میں 29 مارچ کو شوال کا چاند نظر آنے کا امکان ہے، جن میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض، انقرہ، تہران، مسقط، کراچی، لندن، ماسکو اور اوٹاوہ شامل ہیں۔ جبکہ اماراتی فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان کے مطابق عید الفطر 30 مارچ یا 31 مارچ کو ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 29 مارچ کو امارات کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2:58 بجے پر شوال کا چاند پیدا ہوگا، لیکن چونکہ سورج غروب ہونے تک چاند کی عمر صرف 3 گھنٹے ہوگی، اس لیے چاند دیکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عید 31 مارچ کو منائی جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چاند کی پیدائش شوال کا چاند عید الفطر کے مطابق مارچ کو
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔