قومی سلامتی پر اپوزیشن کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بنانی چاہیے، اسپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر حزب اختلاف کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بنانی چاہیے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے لاہور میں ایک تقریب میں شرکت کے دوران کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر اپوزیشن کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بنانی چاہیے، اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا ہوگا۔ قومی سلامتی کے مسئلے میں پولیٹکل پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو قومی سلامتی کے اجلاس میں شامل ہونا چاہیے تھا، دو مواقع کا خود گواہ ہوں جب قومی سلامتی کا معاملہ آیا اور پی ٹی آئی اس میں شریک نہیں ہوئی۔ہ عمران خان وزیر اعظم تھے اور قومی سلامتی کونسل کے بلائے جانے والے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، آج پھر نیشنل سیکیورٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان کی پارٹی شامل نہیں ہوئی۔
بیٹے نے کھانے میں معمولی تاخیر پر ماں کو قتل کردیا
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر ملک کے لیے سوچنا چاہیے، ہم اپوزیشن میں تھے جب بھی قومی سلامتی کا اجلاس ہوا شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر شرکت کی ۔ پی ٹی آئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائے یہ موقع نہیں، جب ہمارے مخالف ملک کی بقا کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، نواز شریف موجودہ صورت حال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یہ فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی زعما ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں۔
غزہ جنگ بندی کیوں ٹوٹی، کون لوگ بمباری کا نشانہ بنے، الجزیرہ نیوز کی رپورٹ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قومی سلامتی کے پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔