“ماہانہ 60 لاکھ روپے میچز کھیلنے کے دیے جاتے ہیں”
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر سکندر بخت نے نیشنل ٹی20 چیمپئین شپ میں حصہ نہ لینے والے کرکٹرز کو تنقید کا نشانہ بناڈالا۔
سابق کرکٹر نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں پر ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ نہ لینے تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کرکٹرز کو ماہانہ 60 لاکھ روپے تنخواہ دیتا ہے، وہ بورڈ کے ملازم ہیں انہیں ہر مقابلے میں حصہ لینا چاہیے۔
سابق کرکٹر نے کھلاڑیوں کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بنایا، کپتان محمد رضوان نے نیشنل ٹی20 کپ کھیلنے کے بجائے کلب کرکٹ کو ترجیح دی ہے جبکہ بابراعظم سمیت کئی کھلاڑی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔
سکندر بخت نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے درخواست کی کہ وہ کھلاڑیوں پر اپنے طریقے سے سختی سے پیش آئیں اور انہیں ڈومیسٹک نہ کھیلنے پر سزائیں دیں۔
واضح رہے کہ چیمپئینز ٹرافی میں قومی ٹیم کی بدترین کارکردگی کے بعد کئی سینئیر کھلاڑیوں کو دورہ نیوزی لینڈ سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔