گوگل کروم استعمال کرنے والے صارفین ہوشیار ہوجائیں، پریشان کن خبر
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
گوگل کروم استعمال کرنے والے صارفین ہوشیار ہوجائیں کیونکہ اس میں کئی خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔گوگل کروم استعمال کرنے والے یوزرس کا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ان خامیوں کا اثر صرف ونڈوز اور لنکس یوزرز پر نہیں پڑے گا بلکہ میک یوزرس بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
اس سلسلے میں بھارتی حکومت نے ہائی رسک وارننگ جاری کردی۔سی ای آر ٹی، ان نے کروم براؤزر میں کئی خامیوں سے متعلق وارننگ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز ان خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ڈیوائس تک ایکسز حاصل کرکے ڈیٹا چوری کرسکتے ہیں۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ پرانے ورژن پر چلنے والے کروم کو فوراً اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
لنکس پر 134.
واضح رہے کہ سی ای آر ٹی-اِن وقت پر ایسی خامیوں کو لے کر وارننگ جاری کرتی رہتی ہے۔ جنوری میں ایجنسی نے 132.0.6834.83/8r سے پرانا ورزن اور 132.0.6834.110/111 سے پرانا ورژن استعمال کرنے والے یوزرس کے لیے وارننگ جاری کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
اسلام آباد: 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے، یہ سوال اکثر موبائل صارفین کے ذہن میں آتا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں پری پیڈ صارفین ہر ریچارج پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مکمل رقم بطور بیلنس دستیاب نہیں ہوتی۔
موجودہ ٹیکس نظام کے مطابق اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل لوڈ کرواتا ہے تو اس کے موبائل اکاؤنٹ میں استعمال کے لیے صرف 72 روپے 77 پیسے کا بیلنس دستیاب ہوتا ہے، جبکہ 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں منہا کر لیے جاتے ہیں۔
100 روپے کے لوڈ پر کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
سرکاری ٹیکس نظام کے مطابق سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 روپے 4 پیسے کٹ جاتے ہیں۔
اس کے بعد باقی رہ جانے والی رقم پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مزید تقریباً 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی ہوتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے کا جواب یہ ہے کہ صارف کو صرف 72.77 روپے ہی استعمال کے لیے ملتے ہیں۔
پری پیڈ صارفین پر زیادہ بوجھ
ماہرین کے مطابق پری پیڈ موبائل صارفین مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد پری پیڈ کنکشن استعمال کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز اور انٹرنیٹ پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولت مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں بھی اضافہ ممکن ہے۔