معروف اداکارہ مایا علی شادی کب کریں گی؟ اداکارہ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
پاکستان شوبز کی خوبرو اداکارہ مایا علی کا کہنا ہے کہ وہ شادی کیلئے تیار ہیں تاہم جب صحیح شخص زندگی میں آئے گا تب ہی شادی کریں گی۔
حال ہی میں مایا علی ندا یاسر کے پروگرام میں اپنی کزنز کے ہمراہ شریک ہوئیں جہاں انہوں نے شوبز سمیت زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ندا یاسر نے مایا سے سوال کیا کہ وہ شادی کر کریں گی۔ جس کے جواب میں مایا علی کا کہنا تھا کہ وہ اب شادی کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں، ان کے گھر والوں کی طرف سے ان پر شادی کا کوئی دباؤ نہیں ہے تاہم وہ اس فیصلے میں کوئی جلد بازی نہیں کرنا چاہتیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے شخص سے شادی کرنا چاہیں گی جو ان کی والدہ کی عزت کرے، ان کے کام کو سمجھے اور انہیں سپورٹ کرے۔مایا علی نے بتایا کہ ان کی والدہ اکثر شادی کو لے کر پریشان ہوجاتی ہیں تاہم ان کے بھائی اور کزنز ان کی والدہ کو سمجھاتے ہیں کہ مایا کو شادی کا فیصلہ خود کرنے دیں اور جب اسے کوئی اس کے مطابق شخص ملے وہ تب ہی شادی کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مایا علی
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت