امریکی ایچ ون بی ویزا کی درخواستوں کیلئے آج سے نیا نظام نافذ ، پرانی درخواستیں فارغ
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا کے محکمہ یوایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے غیر ملکی ہنرمند کارکنوں کی بھرتی کے لئے معروف ایچ ون بی ویزے کا نیا اور شفاف نظام متعارف کرادیا ۔
رپورٹ کے مطابق H-1B ویزا پروگرام آج 20 مارچ سے اہم تبدیلیوں کے بعد نافذالعمل ہوگیا ہے جس کے تحت فارن لیبر ایکسیس گیٹ وے (FLAG) پانچ سال سے پرانی تمام درخواستوں کو حذف کر رہاہے۔
لہذا، اگر کسی کیس کی حتمی تاریخ 22 مارچ 2020 ہے، تو درخواست اس سال 22 مارچ کو حذف کر دی جائے گی۔
پرانی H-1B درخواستوں کو حذف کرنے کا کیا مطلب ہے؟
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، H-1B سمیت تمام عارضی لیبر کنڈیشن ایپلی کیشنز کو 20 مارچ سے ڈیلیٹ کر دیا جائے گا اور FLAG سسٹم سے ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے بجائے، USCIS درخواست کا ایک نیا عمل شروع کرے گا جو تمام درخواست دہندگان کے لیے زیادہ منصفانہ اور مساوی ہوگا۔
ایک فرد کیلئے ایک درخواست
نظرثانی شدہ نظام درخواستوں کے بجائے فائدہ اٹھانے والوں کا انتخاب کرے گا، ایک ہی شخص کے لیے ڈپلیکیٹ اندراجات کو روکے گا۔ اس سے وہ فائدہ ختم ہو جاتا ہے جو بڑی کارپوریشنز کو پچھلے نظام میں حاصل تھا، جس کی وجہ سے وہ ایک ہی فرد کے لیے متعدد درخواستیں دے سکتے تھے۔
ایچ ون بی ویزے کی رجسٹریشن فیس میں اضافہ
اسی طرح نئے نظام میں اب ایک ایچ ون بی ویزا کی رجسٹریشن فیس $10 ڈالر سے بڑھا کر $215 ڈالر مقرر کردی گئی ہے۔
ایک اور اہم تبدیلی یہ ہے کہ USCIS امیدواروں کو آن لائن رجسٹرڈ کرے گی۔ آجروں کو مکمل H-1B پٹیشن دائر کرنے سے پہلے رجسٹر کرنا ہوگا۔
ہنر مند غیرملکی کارکنوں کیلئے سالانہ 65 ہزار ایچ ون بی ویزے
امریک میں سالانہ 65 ہزار ایچ ون بی ویزے جاری کرنے کی حد ہے جبکہ 20 ہزار اضافی لوگوں کو یہ ویزے دیے جاتے ہیں جو امریکی تعلیمی اداروں سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔
امیگریشن پر تحقیق کرنے والی تنظیم باؤنڈلیس کے مطابق قریب 73 فیصد ایچ ون بی ویزے انڈین شہریوں کو جاری کیے جاتے ہیں جبکہ 12 فیصد چینی شہریوں کو ملتے ہیں۔
ماضی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت اور اب حمایت
ماضی میں صدر ٹرمپ اور ان کے نومنتخب نائب صدر جے ڈی وانس ویزوں کے مخالف رہے ہیں۔
اپنے پہلے دورِ اقتدار کے دوران ٹرمپ نے ایچ ون بی ویزا پروگرام کو محدود کیا تھا۔ تاہم اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انکے مشیروں ایلون مسک اور وویک راما سوامی نے ایچ ون بی ویزا پروگرام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان، نواز شریف اور آصف زرداری مل بیٹھ کر قومی حکومت بنائیں،فواد چودھری کی تجویز
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایچ ون بی ویزے ایچ ون بی ویزا
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔