دنیا میں پہلی بار مکمل طور پر اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اخبار شائع
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
دنیا میں پہلی بار ایسا اخبار شائع کیا گیا ہے جسے مکمل طور پر آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی نے تیار کیا۔
جی ہاں واقعی اٹلی کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دنیا کا پہلا ایسا اخباری ایڈیشن شائع کیا ہے جو اے آئی ٹیکنالوجی نے تیار کیا۔Il Foglio نامی اس اخبارکو اے آئی کی مدد سے شائع کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ یہ نئی ٹیکنالوجی کس طرح موجودہ عہد میں اس کام پر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
4 صفحات پر مشتمل اس اخبار کے اے آئی ایڈیشن کو 18 مارچ کو آن لائن اور عام دکانوں پر فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔اخبار کے ایڈیٹر کلاڈیو کریسا کے مطابق یہ دنیا میں کسی روزانہ شائع ہونے والے اخبار کا پہلا ایسا ایڈیشن تھا جسے مکمل طور پر اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہر چیز جیسے تحریریں، شہ سرخیاں، سمریز اور دیگر سب کچھ اے آئی ٹیکنالوجی نے کیا۔
یہ تجربہ اس وقت کیا گیا جب دنیا بھر میں میڈیا اداروں کی جانب سے دیکھا جا رہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو کس طرح اشاعت یا دیگر شعبوں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔اطالوی اخبار کے پہلے صفحے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایک اسٹوری موجود تھی، اسی طرح روسی صدر کے بارے میں ایک کالم شائع کیا گیا تھا۔اٹلی کی معیشت کے بارے میں بھی ایک اسٹوری دی گئی تھی۔
اخبار کے دیگر صفحات میں بھی خبریں اور مختلف اسٹوریز موجود تھیں جو سادہ اور بالکل واضح تھیں جن میں گرامر کی کوئی غلطیاں بھی نہیں تھیں۔آخری صفحے میں اے آئی کی مدد سے ایڈیٹر کے نام قارئین کے خطوط تیار کیے گئے تھے۔اخبار کے ایڈیٹر کے مطابق Il Foglio ایک حقیقی اخبار ہے اور اس آزمائش کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ اے آئی کا عملی استعمال کس حد تک ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اے ا ئی کی مدد سے ئی ٹیکنالوجی اخبار کے کیا گیا
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔